کاروباری اوقات کار بڑھانے سے ریٹیلرز کی سیلز میں اضافہ اور معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے، سی اے پی
کاروباری اوقات کار بڑھانے سے ریٹیلرز کی سیلز میں اضافہ اور معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے، سی اے پی
اسلام آباد۔14جون (اے پی پی):چین سٹورز ایسوسی ایشن آف پاکستان (سی اے پی) نے جنرل سٹورز اور چھوٹی دکانوں کے لئے اوقار کار کو 8 سے 9 بجے تک بڑھانے کے وفاقی حکومت کے فیصلہ کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے صارفین کے رویے ، شہری معمولات اور گرمی سے بچائو کی عکاسی ہوتی ہے۔ سی اے پی نے ارباب اختیار کو تجویز پیش کی ہے کہ قومی سطح پر ریٹیلرز کی دکانوں کو بند کرنے کا وقت رات دس بجے مقرر کیا جائے جس سے شعبہ میں مساوی مواقع حاصل ہوں گے۔ ایسوسی ایشن نے کہا کہ موجودہ ہدایات کے مطابق چھوٹی دکانوں، جنرل و ڈیپارٹمنٹل سٹورز کو بند کرنے کا وقت رات نو بجے مقرر کیا گیا ہے جبکہ گراسری سٹورز ، ریسٹورنٹ سمیت دیگر کئی کاروباروں کو رات دیر گئے تک کام کرنے کی اجازت ہے۔
سی اے پی کے مطابق ایسوسی ایشن کے اراکین کے فیڈ بیک کے مطابق اگر اوقات کار کا دورانیہ رات دس بجے تک بڑھایا جائے تو اس سے ان کاروباروں کی اوسط روزانہ سیل میں 15 تا 30 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے ۔ ایسوسی ایشن کے سروے کے مطابق صارفین کے رویے اور بڑے شہروں کی روایات سمیت گرمی سے بچائو کے حوالے سے صارفین شاپنگ کےلئے رات کے اوقات کو ترجیح دیتے ہیں۔ سی اے پی نے کہا کہ اوقات کار کو 8 سے 9 بجے رات تک بڑھانے کا فیصلہ قابل تحسین ہے۔ سی اے پی کے پیٹرن انچیف طارق محبوب نے اس حوالے سے کہا ہے کہ اگر حکومت اوقات کار کو رات 10 بجے تک توسیع دے تو اس سے نہ صرف ریٹیلرز کی سیلز میں اضافہ ہو گا بلکہ کارکنوں ، سپلائرز اور مینوفیکچررز کی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے ۔
انہوں نے کہا کہ صارفین اگر گراسری سٹورز، ریسٹورنٹ یا اوقات کار سے مستثنیٰ دیگر کاروباروں سے رات 9 بجے کے بعد خریداری کر سکتے ہیں تو کپڑے، جوتے اور نان گراسری ریٹیلرز کےلئے بھی اوقات کار کو 10 بجے تک بڑھا نے سے ان کاروباروں کو خاطر خواہ فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ سی اے پی ملک کے ریٹیل اور ہول سیل کے شعبہ میں 10 فیصد کی شراکتدار ہے جبکہ ریٹیل سیکٹر کے ٹیکس ریونیو میں 90 فیصد حصہ ڈالتی ہے۔
اس سیکٹر میں 13 ہزار سے زیادہ ایف بی آر پی او ایس انٹی گریٹڈ ریٹیلرز اور 35 ہزار سے زیادہ دیگر کاروبار شامل ہیں جو قومی سطح پر ایک ملین سے زیادہ افراد کو سہولت فراہم کرتے ہیں جن کی پی او ایس سسٹم کے تحت سیلز ٹیکس کی وصولیاں مالی سال 2025 میں 414 ارب روپے سے زائد رہی ہیں۔ سی اے پی کے چیئرپرسن اسفند یار فرخ نے کہا ہے کہ ریٹیل سیکٹر ٹیکس ادائیگیوں میں نمایاں حصہ کا شراکتدار ہے لہٰذا اس شعبہ کی مشکلات کے خاتمہ پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔









