کارپٹ ایسوسی ایشن کا وزیر اعظم کی جانب سے برآمد کنندگان کیلئے اعلانات کا خیر مقدم

اسلام آباد۔1فروری (اے پی پی):پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم کی جانب سے برآمد کنندگان کیلئے ایکسپورٹ ری فنانسنگ کی شرح 7.5 فیصد سے کم کرکے 4.5 فیصد کرنے ، بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4پیسے مزید کمی، ویلنگ چارجز میں 9 روپے کی کمی سمیت نمایاں کارکردگی دکھانے والے برآمد کنندگان کیلئے دو سال تک بلیو پاسپورٹس کی مراعات کے اعلان کا خیر …

اسلام آباد۔1فروری (اے پی پی):پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم کی جانب سے برآمد کنندگان کیلئے ایکسپورٹ ری فنانسنگ کی شرح 7.5 فیصد سے کم کرکے 4.5 فیصد کرنے ، بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4پیسے مزید کمی، ویلنگ چارجز میں 9 روپے کی کمی سمیت نمایاں کارکردگی دکھانے والے برآمد کنندگان کیلئے دو سال تک بلیو پاسپورٹس کی مراعات کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے چیئرمین میاں عتیق الرحمن ،پیٹرن انچیف عبد اللطیف ملک، وائس چیئرمین ریاض احمد ، چیئر پرسن کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اعجاز الرحمن، سینئر ممبر ان عثمان اشرف، میجر (ر) اختر نذیر اور سعید خان نے اتوار کو اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف اپنی سربراہی میں اعلیٰ سطحی فالو اپ کمیٹی بھی تشکیل دیں تاکہ جو بھی اعلانات کئے جائیں ان پر بروقت پیشرفت ممکن ہو سکے ۔

ایسوسی ایشن کے رہنمائوں نے کہا کہ ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت قدیم ترین برآمدی صنعت اوردنیا میں پاکستان کی منفرد پہچان کی حامل ہے جس کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے ، جو پاکستان کی سب سے بڑی کاٹیج انڈسٹری ہے اورلاکھوں افراد کو دیہی علاقوں میں ان کی دہلیز پر روزگار فراہمی کا بڑا ذریعہ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ مختلف وجوہات اور کم ہوتی برآمدات کی وجہ سے پر کشش مالی معاونت نہ ہونے سے اس صنعت کو ہنر مندوں کی شدید قلت کا سامنا ہے ،طورخم بارڈر کے مسائل اوربھاری ٹیکسز بھی مشکلات کا باعث ہیں ۔ایسوسی ایشن نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ اس صنعت کی اہمیت کے پیش نظر اس پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ اس کی بقاء ممکن ہو سکے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت برآمدات میں اضافے کے لئے بہترین اقدامات کو یقینی بنا رہی ہے لیکن ہر صنعت کو الگ تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

ہاتھ سے بنے قالینوں کی تیاری ، ان کی برآمدات اور فروخت انتہائی مشکل مراحل ہیں اس لئے یہ صنعت غیر معمولی توجہ کی مستحق ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت اس صنعت کو درپیش چیلنجز سے آگاہی کے لئے ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کو مدعو کرے گی اور ہماری تجاویز اور گزارشات کو سنا جائے گا ۔