فیصل آباد۔ 10 مئی (اے پی پی):جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے ماہرین زراعت نے کاشتکاروں کو 20 مئی کے بعد دھان کی صرف منظورشدہ اقسام ہی کاشت کرنے کی سفارش کی ہے تاکہ انہیں بمپر کراپ حاصل ہو سکے نیز اچھی پیداوار کے حصول کیلئے خالص، صحت مند اور بیماریوں سے محفوظ بیج کا ہونا بھی انتہائی ضروری قرار دیا گیا ہے تاہم کاشتکاروں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ …
کاشتکاروں کودھان کی صرف منظورشدہ اقسام ہی کاشت کرنے کی سفارش

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 10 مئی (اے پی پی):جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے ماہرین زراعت نے کاشتکاروں کو 20 مئی کے بعد دھان کی صرف منظورشدہ اقسام ہی کاشت کرنے کی سفارش کی ہے تاکہ انہیں بمپر کراپ حاصل ہو سکے نیز اچھی پیداوار کے حصول کیلئے خالص، صحت مند اور بیماریوں سے محفوظ بیج کا ہونا بھی انتہائی ضروری قرار دیا گیا ہے تاہم کاشتکاروں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ وہ کمبائن سے کاٹی ہوئی فصل کا بیج استعمال نہ کریں بلکہ ہاتھ سے کاٹی ہوئی فصل کا بیج استعمال کریں۔
انہوں نے کہاکہ صوبہ پنجاب میں دھان کی فصل کی پنیری کی کاشت کیلئے کدو کا طریقہ،خشک طریقہ یا راب کا طریقہ رائج ہے اسلئے کاشتکار کدو کے طریقہ میں بیج کو نمکین پانی میں بھگوئیں اور4گیلن یا 18 لیٹر پانی میں 450گرام خوردنی نمک ڈال کر ہلائیں اس طرح ناقص اور ہلکا بیج اوپر آ جائے گالہٰذا اسے نتھارلیں اور بعد ازاں بیج کو پانی سے دھوکر صاف کرلیں نیز بیج سے نمک صاف کرنے کے بعد بیج کو 24گھنٹے پانی میں بھگو لیں اور انگوری مارنے کیلئے بیج سایہ دار جگہ پر چھوٹی چھوٹی ڈھیریوں یعنی 15سے20 کلو گرام فی ڈھیری رکھیں اور گیلی بوریوں سے ڈھانپ دیں اس طریقہ کو دبو دینا کہتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ کاشتکار زیادہ گرمی سے بچانے کیلئے بیج کو دن میں دو تین مرتبہ ہلائیں اور اس پر پانی کے چھینٹے ماریں تاکہ بیج خشک نہ ہو جائے۔علاوہ ازیں بیج 36سے 48گھنٹے میں انگوری مارے گا اس لئے بیج پر ڈھانپنے والی بوری کو بھی گیلا رکھیں اور کھیت میں پنیری کاشت کرنے سے پہلے ایک دو دفعہ خشک ہل چلائیں اور پھر اسے پنیری بونے سے 3دن پہلے پانی سے بھر دیں پھر کھڑے پانی میں دوہراہل چلائیں اور سہاگہ دیں۔
انہوں نے کہاکہ پنیری کیلئے کھیت تیار کرنے کے بعد اس کو دس دس مرلے کے چھوٹے پلاٹوں میں تقسیم کر دیں اور اب کھیت میں انگوری مارے ہوئے بیج کا چھٹہ دیں نیز چھٹہ دیتے وقت کھیت میں ایک تا ڈیڑھ انچ پانی کھڑا ہونا چاہئے اوربیج کا چھٹہ شام کے وقت بہتر رہتا ہے۔انہوں نے کہاکہ کاشتکار اگلی شام پانی نکال دیں اور صبح دوبارہ پانی لگا دیں اور ایک ہفتہ بعد یہ عمل بند کردیں۔انہوں نے کہاکہ پنیری کا قد بڑھنے پر پانی کی گہرائی بڑھا دیں لیکن پانی کی گہرائی تین انچ سے زیادہ نہ ہو۔
انہوں نے کہاکہ اری اقسام کا ایک کلوگرام فی مرلہ اور باسمتی کا 500سے 750 گرام فی مرلہ انگوری مارا ہوا بیج شام کے وقت بکھیر دیں اس طریقہ سے 25 سے 30دن میں پنیری تیار ہو جائے گی اور اگر پنیری کمزور ہو تو یوریا ایک پاؤ (250گرام) یا کیلشیم امونیم نائٹریٹ (400 گرام) فی مرلہ کے حساب سے چھٹہ دیں۔
انہوں نے کہاکہ کھاد کا چھٹہ لاب کی منتقلی سے تقریباً10دن پہلے کریں اور اگر لاب لگانے کا رقبہ زیادہ ہو تو پنیری ہفتہ دس دن کے وقفہ سے قسطوں میں کاشت کریں تاکہ پنیری منتقلی کے وقت زیادہ عمرکی نہ ہو جائے۔
انہوں نے کہاکہ خیال رہے کہ ایک دفعہ کاشت کی ہوئی پنیری 30 سے40 دن تک ہر حالت میں منتقل ہو جائے کیونکہ یہ اس لئے بھی ضرور ی ہے تاکہ پنیری کی منتقلی کا دورانیہ لمبے عرصے پر محیط نہ ہو تاہم پنیری کی منتقلی آخر جولائی تک مکمل کر لینی چاہئے۔








