فیصل آباد ۔ 30 اپریل (اے پی پی):کاشتکاروں کو او ا ئل عمر میں پھل دار پودے بارآور نہ ہونے تک ان میں موسم خریف کی سبزیاں ٹینڈا، کدو، کریلہ، پیاز، بھنڈی،پھول گوبھی، مولی، گاجر اور خربوزہ کے علاوہ پھلی دار اجناس مونگ، ماش،موٹھ اور رواں جبکہ چاروں میں گوارا اور جنتر کاشت کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے ماہرین زراعت نے بتایاکہ صوبہ پنجاب …
کاشتکاروں کو او ا ئل عمر میں پھلدار پودے بارآور نہ ہونے تک ان میں موسم خریف کی سبزیاں کاشت کرنے کی ہدایت

مزید خبریں
فیصل آباد ۔ 30 اپریل (اے پی پی):کاشتکاروں کو او ا ئل عمر میں پھل دار پودے بارآور نہ ہونے تک ان میں موسم خریف کی سبزیاں ٹینڈا، کدو، کریلہ، پیاز، بھنڈی،پھول گوبھی، مولی، گاجر اور خربوزہ کے علاوہ پھلی دار اجناس مونگ، ماش،موٹھ اور رواں جبکہ چاروں میں گوارا اور جنتر کاشت کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے ماہرین زراعت نے بتایاکہ صوبہ پنجاب میں باغات کا زیر کاشتہ رقبہ 4لاکھ ہیکٹرز سے زیادہ جس میں ترشاوہ پھلوں کا زیر کاشت رقبہ 1 لاکھ 90ہزار ہیکٹر ز ہے جس سے 2لاکھ ٹن سے زائد پیداوار حاصل ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر باغات میں فصلیں کاشت نہ کی جائیں تو ان میں گوڈی کرنے اور جڑی بوٹیوں کو تلف کرنے کیلئے بار بار ہل چلانا پڑتا ہے جو کہ باغبانوں پر اخراجات کی صورت میں بوجھ بن جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ شروع میں پھل دار پودے اتنے بڑے نہیں ہوتے اور ساری زمین کو نہیں گھیرتے اسلئے ان پودوں کے درمیان دوسری نفع آور فصلیں بآسانی اگائی جاسکتی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ فصلوں کی کاشت کے وقت یہ خیال رکھیں کہ پھل دار پودوں کے تنوں کے گرد کافی جگہ خالی چھوڑ دی جائے تاکہ فصل کی جڑیں ان پھل دار پودوں کی جڑوں کی بڑھوتری میں رکاوٹ پیدا نہ کریں اور نہ ہی خوراک حاصل کرنے میں ان کا مقابلہ کریں۔ انہوں نے کہاکہ اگر باغات شہر یا فصلوں کے قریب ہوں توباغات میں سبزیوں کی کاشت آمدنی کے حصول کےلئے زیادہ سود مند ہے۔








