فیصل آباد ۔ 17 نومبر (اے پی پی):کاشتکاروں کو رایا اور سرسوں کو مختلف بیماریوں سے بچانے کیلئے حفاظتی تدابیر پر عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر پلانٹ پروٹیکشن، پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی کنٹرول آف پیسٹی سائیڈز فیصل آباد ڈاکٹر عامر رسول نے بتایاکہ سفید کنگھی کے ابتدائی حملہ میں پتوں، تنوں، شاخوں کی اوپری سطح کے اندر سفید چھالے بن جاتے ہیں جو پھول کر پھٹ جاتے …
کاشتکاروں کو رایا اور سرسوں کو مختلف بیماریوں سے بچانے کے لئے حفاظتی تدابیر پر عمل درآمد کی ہدایت

مزید خبریں
فیصل آباد ۔ 17 نومبر (اے پی پی):کاشتکاروں کو رایا اور سرسوں کو مختلف بیماریوں سے بچانے کیلئے حفاظتی تدابیر پر عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر پلانٹ پروٹیکشن، پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی کنٹرول آف پیسٹی سائیڈز فیصل آباد ڈاکٹر عامر رسول نے بتایاکہ سفید کنگھی کے ابتدائی حملہ میں پتوں، تنوں، شاخوں کی اوپری سطح کے اندر سفید چھالے بن جاتے ہیں جو پھول کر پھٹ جاتے ہیں اور ان سے سفید سفوف نکلنا شروع ہو جاتاہے۔ اس طرح پھولوں پر بیماری کے حملہ سے جہاں ایک طرف پھول بد شکل ہو جاتے ہیں وہیں ان میں بیج بھی نہیں بنتا اور پودے کے متاثرہ حصوں میں سڑن پیداہو جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وبائی جھلساؤ کی بیماری کے حملہ سے پتوں، ٹہنیوں، پھلیوں پر سیاہ اور بھورے دھبے نمودار ہوتے ہیں جو پتوں میں سوراخ کاباعث بھی بنتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بیماری کے شدید حملہ کی صورت میں پھلیاں پتلی اور چھوٹی رہ جاتی ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ مرجھاؤ کی بیماری ہر عمر کے پودوں پر اثر اندازہو کر پیداوار کو متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے کاشتکاروں کو ہدایت کی کہ وہ محکمہ زراعت کے فیلڈسٹاف یا زرعی ماہرین کی مشاورت سے فصل پر مناسب زہروں کاسپرے یقینی بنائیں تاکہ انہیں بعدمیں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرناپڑے۔








