فیصل آباد۔ 25 جون (اے پی پی):پاکستان کسان بورڈکے رہنما میاں ریحان الحق نے کہاہے کہ کاشتکار کلراٹھی زمینوں میں دھان کی کاشت میں حکومت کا ساتھ دیں۔ پاکستان کسان بورڈکے رہنما میاں ریحان الحق نے کہاکہ کاشتکاروں کی بڑی تعداد نے سفید کلر، کالے کلر، سفید و کالے کلر کی آمیزش سے متاثرہ لاکھوں ایکڑ بے آباد و بنجر رقبہ کو آباد کرنے کی کوششیں ترک کردی ہیں اس …
کاشتکار کلراٹھی زمینوں میں دھان کی کاشت میں حکومت کا ساتھ دیں،پاکستان کسان بورڈ

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 25 جون (اے پی پی):پاکستان کسان بورڈکے رہنما میاں ریحان الحق نے کہاہے کہ کاشتکار کلراٹھی زمینوں میں دھان کی کاشت میں حکومت کا ساتھ دیں۔ پاکستان کسان بورڈکے رہنما میاں ریحان الحق نے کہاکہ کاشتکاروں کی بڑی تعداد نے سفید کلر، کالے کلر، سفید و کالے کلر کی آمیزش سے متاثرہ لاکھوں ایکڑ بے آباد و بنجر رقبہ کو آباد کرنے کی کوششیں ترک کردی ہیں اس لئے صرف حکومتی اقدامات سے تھور و کلر سے متاثرہ ہزاروں لاکھوں ایکڑ بنجر رقبہ کو زیرکاشت لانا ممکن نہیں ۔
انہوں نے کہا کہ اگر تھوڑی سی کوشش کی جائے توتھور و کلر سے متاثرہ اراضی کو آسانی سے قابل کاشت بنایاجاسکتاہے۔ انہوں نے بتایاکہ سفید کلر میں نمکیات عام طورپر سفید رنگ کی تہہ کی شکل میں زمین کی سطح پر نظر آتے ہیں جس کے باعث زمین میں پانی و ہوا کی نفوذ پذیری متاثرنہیں ہوتی اور پانی زمین میں جذب ہو جاتاہے۔انہوں نے کہاکہ ایسی زمینوں کے اصلاحی عمل کےلئے کھیتوں کو کراہ کے ذریعے ہموار کرکے پہلے دوہرا ہل چلایاجائے اور پھر سہاگہ دے کر وٹ بندی کر لی جائے۔ بعدازاں نہر یا ٹیوب ویل کا پانی جس میں حل پذیر نمکیات کی مقدار زیادہ سے زیادہ 1500 سے 2000پی ایم کے درمیان ہو کو کھیت میں بھر کر کھڑاکردیاجائے۔انہوں نے بتایاکہ یہ عمل کئی بار دہرانے سے زمین قابل کاشت بنائی جاسکتی ہے۔
اسی طرح کالے کلر سے متاثرہ زمین میں کیلشیم، جسپم یا فری کاربونیٹ ڈال کراس کی اصلاح کو یقینی بنایاجاسکتاہے۔ انہوں نے بتایاکہ سفید و کالے کلر کی آمیز ش والی زمین اکثر کالا یابھورا رنگ اختیار کرلیتی ہے جس کی وجہ نامیاتی مادے کا سوڈیم کی وجہ سے منتشر ہو کر مٹی کے زرات کو کالارنگ دینا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کھیت کے بعض حصے ایسے ہوتے ہیں جن پر کوئی گھاس، جڑی بوٹی یافصل نہیں ہوتی لہٰذا زمین کو پانی لگانے سے یہ کلر ختم کیاجاسکتاہے۔ انہوں نے کہاکہ کاشتکار مزید رہنمائی اور دھان کی کاشت کے لئے ماہرین زراعت کی خدمات سے استفادہ کرسکتے ہیں۔








