فیصل آباد۔ 06 نومبر (اے پی پی):ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع فیصل آباد چوہدری عبدالحمیدنے کہا کہ کاشتکار زیادہ سے زیادہ20 نومبر تک گندم کی کاشت مکمل کرنے کی بھر پور کوشش کریں اور بیماری سے پاک صحتمند، تصدیق شدہ و سفارش کردہ اقسام کے بیج کی کاشت کوہی ترجیح دی جائے تاکہ گندم کی بمپر کراپ کے حصول میں مدد مل سکے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت کا عملہ کاشتکاروں …
کاشتکار20 نومبر تک گندم کی کاشت مکم کریں، سفارش کردہ اقسام کا بیج کاشت کیا جائے،ڈائریکٹرمحکمہ زراعت توسیع فیصل آباد

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 06 نومبر (اے پی پی):ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع فیصل آباد چوہدری عبدالحمیدنے کہا کہ کاشتکار زیادہ سے زیادہ20 نومبر تک گندم کی کاشت مکمل کرنے کی بھر پور کوشش کریں اور بیماری سے پاک صحتمند، تصدیق شدہ و سفارش کردہ اقسام کے بیج کی کاشت کوہی ترجیح دی جائے تاکہ گندم کی بمپر کراپ کے حصول میں مدد مل سکے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت کا عملہ کاشتکاروں و کسانوں کی معاونت، انہیں مفید مشوروں کی فراہمی اور رہنما اصولوں سے آگاہ کرنے کیلئے ہمہ وقت موجود ہے لہٰذا کسی بھی مسئلہ کی صورت میں محکمہ زراعت کے قریبی حکام سے فوری رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بہترین فصلوں کے حصول کیلئے کیمیائی کھادوں کے متوازن استعمال کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ گندم کی بہتر کاشت اور اچھی پیداوار حاصل کرنے کیلئے فصل میں کھادوں کا استعمال زمین کی نوعیت کے مطابق محکمہ زراعت کے عملہ کی مشاورت سے کیا جائے۔ کمزور زمین میں بوائی کے وقت 2بوری ڈی اے پی، آدھی بوری یوریا، 1بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ، ڈیڑھ بوری یوریا، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ یا 5بوری سنگل سپر فاسفیٹ، اڑھائی بوری امونیم نائٹریٹ، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ یا 4بوری نائٹرو فاس، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ ڈالی جائے۔
انہوں نے مزید بتا یا کہ اوسط زرخیز زمینوں میں گندم کی بوائی کے وقت ڈیڑھ بوری ڈی اے پی، آدھی بوری یوریا، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ یا 4بوری سنگل سپر فاسفیٹ، ایک بوری یوریا، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ کااستعمال کیا جا سکتا ہے۔ زرخیز زمینوں میں ایک بوری ڈی اے پی، آدھی بوری یوریا، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ یا اڑھائی بوری سنگل سپر فاسفیٹ، پونی بوری یوریا، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ یا اڑھائی بوری سنگل سپر فاسفیٹ، سوا بوری امونیم نائٹریٹ، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ یا دو بوری نائٹرو فاس، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ ڈال کر بہترین پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت کے توسیعی عملہ نے گاؤں گاؤں جا کر کاشتکاروں کو فنی رہنمائی اور تربیت کی فراہمی کاآغاز کردیاہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ صوبہ پنجاب کے قابل فخر اور محنتی کاشتکار گندم کی بر وقت کاشت سے22ملین ٹن سے زائد کا پیداواری ہدف بآسانی حاصل کر لیں گے۔انہوں نے کہا کہ15نومبر کے بعد گندم کی کاشت کی صورت میں فی دن کے حساب سے پیداوار میں کمی آنا شروع ہو جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کاشتکار گندم کی کامیاب فصل کے حصول کیلئے محکمہ زراعت کی منظور شدہ اقسام کا بیج استعمال کریں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب سیڈ کارپوریشن کے ڈیلرز کے ذریعے منظورشدہ اقسام کاتصدیق شدہ بیج کاشتکاروں کو مناسب قیمت پر فراہم کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ گندم کی بہترین پیداوار سے خوشحال پنجاب کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔ انہوں نے بتایاکہ گندم کی زیادہ پیداواری مہم کے سلسلہ میں ریڈیو پاکستان سے خصوصی زرعی نشریات کابھی آغاز کیاجارہاہے جس میں زرعی ماہرین کاشتکاروں کو گندم کی جدید پیداواری ٹیکنالوجی کے متعلق آگاہی اور سفارشات پر مبنی لیکچر دے رہے ہیں۔








