کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد میں کیمپس ڈائریکٹرز کانفرنس کا پہلا اجلاس، انتظامی اصلاحات، ادارہ جاتی استحکام، ڈیجیٹل تبدیلی اور مستقبل کی ترقیاتی حکمت عملی پر تفصیلی غور

کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد میں کیمپس ڈائریکٹرز کانفرنس کا پہلا اجلاس ریکٹر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں انتظامی اصلاحات، ادارہ جاتی استحکام، ڈیجیٹل تبدیلی اور مستقبل کی ترقیاتی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ منگل کو ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ اپنے دور ذمہ داری کے ابتدائی تین ماہ کے دوران مستقل کیمپس ڈائریکٹرز اور مرکزی …

اسلام آباد۔2جون (اے پی پی):کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد میں کیمپس ڈائریکٹرز کانفرنس کا پہلا اجلاس ریکٹر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں انتظامی اصلاحات، ادارہ جاتی استحکام، ڈیجیٹل تبدیلی اور مستقبل کی ترقیاتی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ منگل کو ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ اپنے دور ذمہ داری کے ابتدائی تین ماہ کے دوران مستقل کیمپس ڈائریکٹرز اور مرکزی انتظامیہ کے اہم عہدیداروں کی تقرری کو ترجیح دی گئی تاکہ برسوں سے جاری عبوری انتظامی بندوبست کا خاتمہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کا انعقاد اس عمل کی کامیاب تکمیل کا مظہر ہے اور اب جامعہ کے تمام کیمپس مستقل قیادت کے تحت کام کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران متعدد انتظامی اور عملی اصلاحات متعارف کرائی گئیں جن کے نتیجے میں ادارہ جاتی کارکردگی میں بہتری اور اخراجات میں نمایاں بچت ممکن ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جامعہ کو بہتر نظم و نسق، شفافیت اور موثر خدمات کی فراہمی کے لیے مزید مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جا رہا ہے۔ ریکٹر نے تمام کیمپسز کو ہدایت کی کہ پرانے ریکارڈ اور دفتری امور کو ترجیحی بنیادوں پر ڈیجیٹل نظام میں منتقل کیا جائے تاکہ جامعہ کو مکمل طور پر کاغذ سے پاک اور مصنوعی ذہانت سے معاونت یافتہ ادارے میں تبدیل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ای گورننس اور جدید معلوماتی نظام مستقبل میں جامعہ کی ترقی اور انتظامی موثریت کے بنیادی ستون ہوں گے۔اجلاس میں شرکا کو جامعہ کے نئے ’’مطابقتی تعلیمی ماڈل‘‘ کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی جسے مجازی تعلیمی نظام کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔ اس اقدام سے مختلف کیمپسز میں تدریس کے معیار میں بہتری، طلبہ کو یکساں تعلیمی سہولیات کی فراہمی اور عارضی تدریسی عملے پر انحصار میں کمی متوقع ہے۔ ڈاکٹر راحیل قمر نے کہا کہ جامعہ کا ’’چھ جہتی فریم ورک‘‘ اپنے اگلے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ کانفرنس میں مختلف کیمپسز کو درپیش مسائل، مواقع اور ترقیاتی امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ تمام پالیسیوں کا محور طلبہ کے تعلیمی تجربے میں بہتری، سیکھنے کے نتائج کو موثر بنانا اور سہولیات و خدمات کے معیار کو بلند کرنا ہوگا۔انہوں نے فیصلہ سازی کے عمل کو تیز تر بنانے اور روزمرہ امور میں غیر ضروری تاخیر کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے خواتین کی موثر شمولیت کے عزم کا اعادہ کیا۔ ریکٹر نے ہدایت کی کہ تمام کیمپسز میں قیادت اور فیصلہ سازی کے مناصب پر خواتین کی نمائندگی کو فروغ دیا جائے اور انتظامی ذمہ داریوں میں ان کی شرکت پچاس فیصد تک بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ یونیورسٹی کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے ساتھ رابطے جاری ہیں تاکہ ایبٹ آباد، اٹک، کوئٹہ اور اسلام آباد کیمپسز کی ترقی اور توسیع کے لیے ضروری مالی وسائل حاصل کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ چودہ ہزار سے زائد سابق طلبہ پر مشتمل جامعہ کی وسیع برادری کے ساتھ روابط کا فروغ بھی ترقیاتی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ ریکٹر نے مزید کہا کہ جامعہ کی مستقبل کی ترقی کے لیے مخیر حضرات، صنعتی و تجارتی اداروں اور سماجی ذمہ داری کے تحت کام کرنے والی تنظیموں کے تعاون کو بھی منظم انداز میں فروغ دیا جائے گا۔ کانفرنس کے دوران نئے تعینات ہونے والے کیمپس ڈائریکٹرز نے اپنے اپنے کیمپسز کی ترقی، انتظامی بہتری اور تعلیمی معیار کے فروغ کے حوالے سے بریفنگ دی جبکہ سبکدوش ہونے والے ڈائریکٹرز نے اپنی کارکردگی، کامیابیوں اور درپیش چیلنجز پر جامع رپورٹس پیش کیں۔ مرکزی دفتر کے مختلف شعبہ جات نے بھی پریذنٹیشنز کے ذریعے کیمپسز کو دستیاب سہولیات، جاری منصوبوں اور آئندہ ترجیحات سے آگاہ کیا۔ کانفرنس میں رجسٹرار ڈاکٹر فہیم اے قریشی، خزانچی محمد اعظم، ناظم امتحانات پروفیسر ڈاکٹر سجاد اے مدنی سمیت مرکزی دفتر کے اعلیٰ عہدیداران اور مختلف شعبہ جات کے سربراہان نے شرکت کی۔