اقوام متحدہ ۔13دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ میں پاکستان نے کانگو (ڈی آر سی) میں تیزی سے بگڑتی ہوئی سکیو رٹی صورتحال، شدید لڑائی اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے تناظر میں کانگو کی فوج اور روانڈا کی حمایت یافتہ ایم 23 باغی گروپ پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں امن کے قیام کے لیے “سنجیدہ مذاکرات” کا آغاز کریں اور طے شدہ معاہدوں پر عمل درآمد …
کانگو کی بگڑتی صورتحال، پاکستان کا تنازع کے خاتمے کے لیے سنجیدہ مذاکرات پر زور

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔13دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ میں پاکستان نے کانگو (ڈی آر سی) میں تیزی سے بگڑتی ہوئی سکیو رٹی صورتحال، شدید لڑائی اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے تناظر میں کانگو کی فوج اور روانڈا کی حمایت یافتہ ایم 23 باغی گروپ پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں امن کے قیام کے لیے “سنجیدہ مذاکرات” کا آغاز کریں اور طے شدہ معاہدوں پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور تمام قسم کی دشمنیوں کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے صورتحال کو “انتہائی غیر مستحکم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایم 23 باغی مسلسل اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں میں توسیع کر رہے ہیں، جن میں اسٹریٹجک شہر اوویرا پر حالیہ قبضہ بھی شامل ہے۔سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ واشنگٹن معاہدے پر دستخط کے باوجود ایم 23 کو بیرونی حمایت حاصل ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ کیے گئے وعدوں پر عملی طور پر عمل ہونا چاہیے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے امن مشن (ایم او این یو ایس سی او ) کو درپیش مشکلات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ایم 23 کی پابندیوں کے باعث مشن کے تقریباً 40 فیصد علاقے میں شہریوں کے تحفظ کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایم 23 کو مونوسکو کو سلامتی کونسل کی جانب سے دیے گئے مینڈیٹ پر مکمل عمل درآمد کی اجازت دینی چاہیے، اور اس بات پر زور دیا کہ مشن کے مینڈیٹس زمینی حقائق کے مطابق، قابلِ عمل اور حقیقت پسندانہ ہونے چاہئیں۔پاکستانی مندوب نے مونوسکو کے بجٹ میں کٹوتیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے نتیجے میں فوجیوں کی تعداد 11,500 سے کم ہو کر تقریباً 8,234 رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ داریوں اور وسائل کے درمیان یہ واضح فرق فوری طور پر دور کیا جانا ضروری ہے۔
پاکستان، جو جنوبی کیوو میں فوج فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے، پہلے ہی خبردار کر چکا تھا کہ وہاں سے فوجی انخلا قبل از وقت ہوگا اور اس سے سکیو رٹی خلا پیدا ہو سکتا ہے، جو اب درست ثابت ہو چکا ہے۔ سفیر نے زور دیا کہ امن مشنز سے متعلق فیصلوں میں زمینی حقائق سے آگاہ فوج اور پولیس فراہم کرنے والے ممالک سے مؤثر مشاورت کی جائے۔انہوں نے کہا کہ کانگو میں دیرپا امن کے لیے تنازع کی بنیادی وجوہات کو حل کرنا ناگزیر ہے، اور تمام امن اقدامات علاقائی حمایت، سلامتی کونسل کی سرپرستی اور ڈی آر سی کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کے تحفظ پر مبنی ہونے چاہئیں۔








