لاہور۔یکم جنوری(اے پی پی ) چیئر پرسن سٹینڈنگ کمیٹی فار چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم و رکن پنجاب اسمبلی مومنہ وحید نے کہا ہے کہ کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے میں پچھلے سال کے مقابلے میں 73فیصد بہتری آئی ہے، ٹریڈ بیلنس میں چالیس فیصد کمی آئی ہے، پچھلے سال ٹریڈ بیلنس 13.4ارب ڈالر تھا جو کہ مالی سال 2019-20میں اب تک 8.0ارب ڈالر ہے، برآمدات میں 4.7فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، …
کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے میں 73فیصد بہتری آئی ہے،مومنہ وحید

مزید خبریں
لاہور۔یکم جنوری(اے پی پی ) چیئر پرسن سٹینڈنگ کمیٹی فار چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم و رکن پنجاب اسمبلی مومنہ وحید نے کہا ہے کہ کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے میں پچھلے سال کے مقابلے میں 73فیصد بہتری آئی ہے، ٹریڈ بیلنس میں چالیس فیصد کمی آئی ہے، پچھلے سال ٹریڈ بیلنس 13.4ارب ڈالر تھا جو کہ مالی سال 2019-20میں اب تک 8.0ارب ڈالر ہے، برآمدات میں 4.7فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، گذشتہ مالی سال یہ اعدادو شمار 9.9ارب ڈالر تھے جو کہ اب تک 10.3ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، درآمدات گذشتہ سال (2018-19) میں 23.2ارب ڈالر تھیں جو کہ اس سال اب تک 18.3ارب ڈالر ہیں، سروسز ٹریڈ بیلنس میں 6.6فیصد بہتری آئی ہے، ترسیلات زر گذشتہ سال کی سطح پر ہیں جو کہ اب تک 9.3ارب ڈالرتک پہنچی ہیں، فارن ایکسچینج ذخائر میں 14فیصد بہتری آئی ہے، مجموعی طور پر ایکسٹرنل سیکٹر میں تمام اعشاریوں میں مثبت رجحان پایا جاتا ہے،انہوں نے کابینہ کو بتایاکہ ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس وصولیوں میں گذشتہ سال کے مقابلے میں 17فیصد اضافہ ہوا ہے، پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کی مد میں اب تک 87ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں جس میں مزید تیزی لائی جا رہی ہے، انہوں نے کہاکہ حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ پرائمری خسارے کو پرائمری سرپلس میں تبدیل کیا جائے تاکہ ہمیں قرضوں پر سود کی واپسی کے لئے مزید قرضے نہ لینے پڑیں، حکومتی اقدامات کے نتیجے میں ایکسٹرنل و فسکل سیکٹر میں آنے والی بہتری سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔








