کروز جہاز پر ہینٹا وائرس کا پھیلاؤ وبا نہیں، عالمی ادارہ صحت
کروز جہاز پر ہینٹا وائرس کا پھیلاؤ وبا نہیں، عالمی ادارہ صحت

مزید خبریں
جنیوا۔8مئی (اے پی پی):عالمی ادارہ صحت نے کروز جہاز پر ہینٹا وائرس کے پھیلاؤ سے تین افراد کی ہلاکت کے باوجود واضح کیا ہے کہ موجودہ صورتحال کو کسی وبا کے آغاز کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا، ادارے نے وائرس سے نمٹنے کے لیے تحقیق، ویکسین اور تشخیصی سہولیات میں سرمایہ کاری کی اہمیت پر زور دیا ۔اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق عالمی ادارہ صحت میں وباؤں اور عالمی وباؤں کے انتظام کی ڈائریکٹر ڈاکٹر ماریا وان کیرخوو نے کہا کہ یہ صورتحال اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جراثیم اور وائرس سے متعلق تحقیق میں سرمایہ کاری انتہائی اہم ہے کیونکہ علاج، ویکسین اور تشخیصی آلات جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اسی تناظر میں نیدرلینڈز کی وزارتِ صحت نے اعلان کیا کہ ایک فضائی میزبان کو ایمسٹرڈیم کے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے کیونکہ وہ جہاز ایم وی ہونڈیئس پر وائرس سے متاثرہ افراد میں سے ایک کے رابطے میں آئی تھی۔ وزارت کے مطابق خاتون میں معمولی علامات ظاہر ہوئیں اور اس کا طبی معائنہ جاری ہے۔ یاد رہے کہ ہینٹا وائرس بنیادی طور پر متاثرہ چوہوں کی رطوبتوں سے آلودہ فضا کے ذریعے منتقل ہوتا ہے جبکہ انسان سے انسان میں اس کی منتقلی کو نایاب سمجھا جاتا ہے۔








