کرونا کے حوالے سے آئندہ پندرہ یوم انتہائی اہم ہیں ،وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کی راولپنڈی ریلوے اسٹیشن پر گفتگو

راولپنڈی ۔ 30 مارچ (اے پی پی) کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر پاکستان ریلوے نے مسافر ٹرینیں غیر معینہ مدت تک بند رکھنے کا اعلان کردیا ، تمام طبی سہولیات سے لیس 310بیڈز پر مشتمل ٹرین کوچز قرنطینہ وارڈ میں تبدیل کردی گئیں ،کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے عارضی قرنطینہ میں ہمہ وقت طبی عملہ موجود رہے گا،آئسولیشن سہولیات کی فراہمی کے لیے راولپنڈی ریلوے …

راولپنڈی ۔ 30 مارچ (اے پی پی) کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر پاکستان ریلوے نے مسافر ٹرینیں غیر معینہ مدت تک بند رکھنے کا اعلان کردیا ، تمام طبی سہولیات سے لیس 310بیڈز پر مشتمل ٹرین کوچز قرنطینہ وارڈ میں تبدیل کردی گئیں ،کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے عارضی قرنطینہ میں ہمہ وقت طبی عملہ موجود رہے گا،آئسولیشن سہولیات کی فراہمی کے لیے راولپنڈی ریلوے اسٹیشن سمیت ملک بھر کے 570ریلوے اسٹیشنز پر سات ہسپتال قائم کردیئے گئے ،ملتان ،کراچی ،پشاور ،سکھر اور کوئٹہ شامل ہیں ،1700کوچز موجود ہیں ،570ریلوے اسٹیشنز جن میں 16نئے ریلوے اسٹیشن ہیں ،اللہ سے مکمل پر امید ہوں کہ پاکستان اس موذی مرض سے نجات حاصل کرے گا ۔ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے پیر کو راولپنڈی ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کو قرنطینہ وارڈ میں تبدیل کرنے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر ان کے ہمراہ چیئرمین حفیظ الرحمن گیلانی ،ڈی ایس راولپنڈی منور شاہ ،بریگیڈیئر وسیم بھی موجود تھے ۔انہوں نے کہاکہ فی الوقت پسنجر ٹرینیں نہیں چلا رہے اور یہ تاحکم ثانی نہیں چلائی جائیں گی تاھم ٹرین سروس بحالی سے 72یا 24گھنٹے قبل بکنگ کھولی جائے گی ،مال بردار ٹرینیں ملک بھر میں چل رہی ہیں اور دالیں ،گھی ،چاول ،تیل اور دیگر اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل کے لیے پاکستان ریلوے ایک کلیدی کردار ادا کررہاہے ،ریلوے کے 65ہسپتال اور ڈسپنسریاں ہیں جن میں 8بڑے ہسپتال جبکہ دیگر ملک بھر میں ڈسپنسریاں ہیں ۔ان تمام کو بھی کرونا وائرس کے مریضوں کے لیے تفویض کردیا گیا ہے ،جس صوبے میں بھی یہ ہوں اس صوبے کی حکومت یہ لے سکتی ہے ،7ریلوے اسٹیشنز پر وینٹی لیٹر کے ساتھ ہسپتال فعال کردیئے گئے ہیں ،اسی طرح ریلوے ہسپتال میں بھی 50بیڈز کا آئسولیشن وارڈ قائم کیا گیاہے ،کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پاکستان ریلوے راولپنڈی میں 400سے 450مریضوں کوتمام اخراجات کے ساتھ سہولیات فراہم کرسکتا ہے ۔میڈیا کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہاکہ ملک کسی بھی طرح کرفیو کی طرف نہیں جا رہا اور کرفیو نہیں لگنا چاہیے،جو لوگ احتیاط برت رہے ہیں وہ قوم کی خدمت کررہے ہیں ، اسلیے کرونا سے محفوظ رہنے کے لیے احتیاط کریں اور اپنے آپ کو ،ملک اور قوم کو بچائیں ،پاکستان میں ایسے خطرناک حالات نہیں ہیں جیسے خدانخواستہ امریکہ اور اٹلی وغیرہ میں ہیں ۔ابھی پاکستان میں حالات کنٹرول میں ہیں تاھم پاکستان ریلوے نے کسی نامساعد حالت کے پیش نظر اپنے 570ریلوے اسٹیشنز اور 7ہسپتال پیش کیے ہیں ،آئندہ پندرہ یوم انتہائی اہم ہیں اوراگر پاکستان میں یہ مرض طول نہیں پکڑتی تو انشاءاللہ اس عرصہ میں پاکستان سے کرونا کا خاتمہ ہوگا ۔