اسلام آباد۔14نومبر (اے پی پی):بلوم برگ نے کہاہے کہ پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور حکومت کی جانب سے بین الاقوامی کیپٹل منڈیوں میں دوبارہ داخل ہونے کے منصوبوں سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہورہاہے اوراس کے نتیجہ میں پاکستان کے ڈالر بانڈز میں اضافہ کارحجان جاری رہنے کاامکان ہے۔ یہ بات بین الاقوامی ادارہ بلوم برگ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کہی ہے۔ رپورٹ میں …
کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور بین الاقوامی کیپٹل منڈیوں میں دوبارہ داخل ہونے کے منصوبوں سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہورہاہے، پاکستان کے ڈالر بانڈز میں اضافہ کارحجان جاری رہنے کاامکان ، بلوم برگ

مزید خبریں
اسلام آباد۔14نومبر (اے پی پی):بلوم برگ نے کہاہے کہ پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور حکومت کی جانب سے بین الاقوامی کیپٹل منڈیوں میں دوبارہ داخل ہونے کے منصوبوں سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہورہاہے اوراس کے نتیجہ میں پاکستان کے ڈالر بانڈز میں اضافہ کارحجان جاری رہنے کاامکان ہے۔
یہ بات بین الاقوامی ادارہ بلوم برگ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کہی ہے۔ رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ پاکستان رواں سال کے آخر میں چینی کرنسی یوان میں بانڈز جاری کرنے اور 2026ء میں تقریباً پانچ سال بعد پہلی مرتبہ یورو بانڈ مارکیٹ میں واپسی کا ارادہ رکھتا ہے، گولڈمین ساکس ایسیٹ مینجمنٹ اور یوبی ایس ایسیٹ مینجمنٹ کے مطابق یہ پاکستان کے لیے ایک اہم موڑ ہے جو دو سال قبل ڈیفالٹ کے قریب پہنچ گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس میں واپسی کے حوالہ سے پاکستان کی کوشش سے واضح ہورہاہے کہ وہ اپنے مالیاتی ذرائع میں تنوع پیدا کر نے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پر انحصار کم کرنے کی راہ پرہے، پاکستان کے ڈالر بانڈز نے اس سال اب تک 24.5 فیصد منافع دیا ہے جو ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔
دانسک بینک ایسیٹ مینجمنٹ جس نے دو سال قبل ملک کے معاشی بحران کے عروج میں پاکستان کے ڈالر بانڈز خریدے تھے، نے اس سال کئی بار اپنی ہولڈنگز میں اضافہ کیا ہے۔ ہیڈ آف ایمرجنگ مارکیٹس ڈیٹ سورن مورک نے بتایا کہ ہم پرامید ہیں کہ پاکستان اصلاحات کے راستے پر گامزن رہتے ہوئے اپنے زرمبادلہ کے ذخائرمیں اضافہ کیلئے اقدامات کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس تک رسائی حاصل کرے گا اور اس سے فائدہ اٹھائے گا۔ رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کی تین بین الاقوامی ایجنسیوں نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہترکردی ہے، اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے ٹیکس کے دائرہ کاراورتعمیلی اقدامات میں اضافہ کیلئے اقدامات بھی کئے ہیں۔
یوبی ایس ایسیٹ مینجمنٹ میں فکسڈ انکم ایمرجنگ مارکیٹس اور ایشیا پیسیفک کی سربراہ شمائلہ خان نے بتایا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اقدامات اورپالیسیوں پرعمل درآمد سے بہتر کارکردگی برقرار رہے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے لیے مارکیٹ تک رسائی کا ممکنہ طور پر کھل جانا بھی ایک مثبت علامت ہے تاہم ان کاکہناتھا کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ سے مالیات پر دبائو آسکتا ہے کیونکہ تیل ملک کی مجموعی درآمدات کا تقریبا ً30فیصدہے۔ دریں اثناء وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادنے بتایاکہ پاکستان پانچ سال کے وقفہ کے بعدڈالربانڈز کے زریعہ فنڈز حاصل کرنے کامنصوبہ رکھتاہے۔انہوں نے بتایا کہ آئندہ سال یوروبانڈز مارکیٹ سے استفادہ کرنے کاارادہ ہے۔








