کسانوں کی فلاح اور پیداوار میں اضافہ ملکی معاشی استحکام کے لیے نہایت اہم ہے،ڈاکٹر مختار احمد برتھ

اسلام آباد۔6فروری (اے پی پی):وزیر مملکت برائے قومی صحت ڈاکٹر مختار احمد برتھ نے سینیٹ کو آگاہ کیاکہ ملک میں زرعی پیداوار کی کم سطح کی بنیادی وجوہات میں دہائیوں سے ناکافی تحقیق، فرسودہ کاشت و برداشت کے طریقے، پانی کے ناقص انتظام اور طلب و رسد پر مبنی قیمتوں کا نظام شامل ہیں۔ وقفہ سوالات کے دوران مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت نے تسلیم کیا کہ …

اسلام آباد۔6فروری (اے پی پی):وزیر مملکت برائے قومی صحت ڈاکٹر مختار احمد برتھ نے سینیٹ کو آگاہ کیاکہ ملک میں زرعی پیداوار کی کم سطح کی بنیادی وجوہات میں دہائیوں سے ناکافی تحقیق، فرسودہ کاشت و برداشت کے طریقے، پانی کے ناقص انتظام اور طلب و رسد پر مبنی قیمتوں کا نظام شامل ہیں۔ وقفہ سوالات کے دوران مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت نے تسلیم کیا کہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے جہاں بالخصوص زراعت اور بیجوں کے شعبے میں مسلسل اور مؤثر تحقیق نہیں ہو سکی۔

انہوں نے کہا کہ اس خلا کے باعث پیداوار کم رہی اور کسانوں کو بار بار مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ زرعی منڈیوں میں قیمتوں کا تعین زیادہ تر طلب و رسد کے اصول پر ہوتا ہے۔ گندم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں اچانک کمی سے کسانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم آٹے کی قیمتوں میں استحکام آیا جس سے صارفین کو ریلیف ملا۔مختار احمد نے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت کا تقریباً 58 فیصد حصہ ہے، اس لیے کسانوں کی فلاح اور پیداوار میں اضافہ ملکی معاشی استحکام کے لیے نہایت اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں اب بھی پرانا طریقہ استعمال ہو رہے ہیں جس سے نقصانات اور نااہلی پیدا ہوتی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب نے محکمہ زراعت کے ذریعے کسانوں کی معاونت کے لیے جدید زرعی ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے۔وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل اور نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر چین کے ساتھ مل کر کپاس اور دیگر اجناس کے بیجوں کی تیاری پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی اقسام کے بیج اور جدید ٹیکنالوجی آئندہ برسوں میں پیداوار میں نمایاں اضافہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پانی کی کمی کا شکار ملک ہے، اس لیے پانی کے بہتر استعمال کی ضرورت ہے۔

اس سلسلے میں ایسی تکنیکیں اپنائی جا رہی ہیں جن سے کم پانی میں زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے۔ایک اور سوال کے جواب میں سینیٹر روبینہ ناز کو بتایا گیا کہ گرین ایریاز کو قانونی تحفظ دے کر ’’لاک‘‘ کر دیا گیا ہے اور ان علاقوں میں ہاؤسنگ سوسائٹیز یا تجارتی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا اور سندھ سمیت دیگر صوبوں پر زور دیا کہ وہ بھی غیر منصوبہ بند شہری پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایسے اقدامات کریں۔انہوں نے کہا کہ بے ہنگم ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے پھیلاؤ پر قابو پانا زرعی زمین کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔