کسی بھی جارحیت پر اپنے حقِ دفاع کا استعمال کرتے ہوئے فیصلہ کن اور متناسب جواب دیں گے، ایرانی مندوب کا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو خط

اقوام متحدہ۔20فروری (اے پی پی):ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی جارحیت کی گئی تو وہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے حقِ دفاع کا استعمال کرتے ہوئے فیصلہ کن اور متناسب جواب دے گا۔ شنہوا کے مطابق یہ بات اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر امیرسعید ایروانی نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر …

اقوام متحدہ۔20فروری (اے پی پی):ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی جارحیت کی گئی تو وہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے حقِ دفاع کا استعمال کرتے ہوئے فیصلہ کن اور متناسب جواب دے گا۔ شنہوا کے مطابق یہ بات اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر امیرسعید ایروانی نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے خط میں کہی۔ خط میں کہا گیا کہ خطے کی غیر مستحکم صورتحال اور امریکا کی جانب سے فوجی سازوسامان اور اثاثوں کی مسلسل نقل و حرکت اور اضافہ کے پیشِ نظر ایسے جارحانہ بیانات کو محض بیان بازی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

یہ فوجی جارحیت کے حقیقی خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایران نے سلامتی کونسل اور اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ دیر ہونے سے پہلے فوری اقدام کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ طاقت کے استعمال کی دھمکیوں اور جارحانہ اقدامات کو خارجہ پالیسی کے آلے کے طور پر معمول یا جائز قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔ خط میں ایران نے امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات میں باہمی طور پر قابلِ قبول اور نتیجہ خیز حل کے عزم کا اعادہ بھی کیا اور کہا کہ اگر امریکا سنجیدگی سے مذاکرات کرے اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کا حقیقی احترام کرے تو ایک پائیدار اور متوازن حل کا حصول ممکن ہے۔