کسی سیاسی جماعت، پبلک آفس ہولڈر کے پاس اسلام آباد کی سڑکیں بند کرنے کا اختیار نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ

کسی سیاسی جماعت، پبلک آفس ہولڈر کے پاس اسلام آباد کی سڑکیں بند کرنے کا اختیار نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد۔14ستمبر (اے پی پی):اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی سیاسی جماعت، پبلک آفس ہولڈر کے پاس اسلام آباد کی سڑکیں بند کرنے کا اختیار نہیں، عدالت نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے ممکنہ لانگ مارچ کیخلاف درخواست ہدایات کے ساتھ نمٹا دی۔عدالت نے حکم دیا ہے کہ چیف سیکرٹریز کے آرڈرز پر جو سرکاری افسر عملدرآمد نہ کرے اس کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کی جائے۔ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ صوبوں کے وزیراعلیٰ یقینی بنائیں کہ سرکاری مشینری سیاسی جماعت کے احتجاج میں استعمال نہ ہو اور کوئی سرکاری افسر کسی احتجاج یا ریلی پر زبردستی مجبور کرنے والے آرڈر پر عملدرآمد نہ کرے، کوئی بھی افسر جسے مجبور کیا جائے وہ فوری طور پر اپنے صوبے کے چیف سیکرٹری /چیف کمشنر یا آئی جی کو اگاہ کرے، کوئی بھی سرکاری افسر اپنے ماتحت اہلکاروں کو اسلام آباد کی طرف آنے والے کسی مارچ یا احتجاج میں شامل نہ ہونے دے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس اعظم خان اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل لارجر بینچ نے شہری وقاص احمد کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا۔

عدالت نے فیصلہ سنایا کہ صوبائی حکومتیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی مارچ، جلوس یا ریلی کے لیے سرکاری وسائل استعمال نہ ہوں۔ وزرائے اعلیٰ یقینی بنائیں کہ کسی احتجاج میں عوامی فنڈز یا سرکاری افسران و اہلکاروں کو استعمال نہ کیا جائے۔جلوس یا ریلی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے سرکاری گاڑیاں، مشینری یا دیگر سرکاری وسائل استعمال نہیں کیا جائے گا۔ کسی بھی سرکاری ملازم کو مارچ، جلوس یا ریلی میں شرکت پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ اسلام آباد کی انتظامیہ اور وزارت داخلہ شہریوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

عدالت نے صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور انسپکٹر جنرلز پولیس کو عدالتی ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔ عدالت نےوفاقی سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد کو بھی عدالتی احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ عوامی عہدہ رکھنے والا شخص بھی اسلام آباد کی سڑکوں، شاہراہوں یا داخلی و خارجی راستوں پر قبضہ نہیں کرسکتا،کسی سیاسی جماعت یا رہنما کو اسلام آباد کے انٹرچینجز اور ٹول پلازوں پر قبضے کا اختیار حاصل نہیں،اسلام آباد کی جانب آنے والے راستوں میں رکاوٹ ڈالنا شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، کسی مارچ، جلوس یا ریلی کے ذریعے شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت متاثر نہیں کی جاسکتی،اسلام آباد میں تجارت اور کاروبار میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، احتجاج یا مارچ کے باعث تعلیمی اداروں تک شہریوں کی رسائی متاثر نہیں ہونی چاہیے۔

سرکاری وسائل اسلام آباد آنے والے مارچ یا ریلی میں استعمال نہ ہوں۔ عدالت نے حکم دیا کہ صوبائی حکومتیں سرکاری فنڈز کو اسلام آباد کی جانب مارچ یا جلوس کے لیے استعمال نہ ہونے دیں، کوئی سرکاری افسر اسلام آباد آنے والے مارچ، جلوس یا ریلی میں مدد یا سہولت فراہم نہیں کرے گا،سرکاری گاڑیاں، مشینری اور دیگر سرکاری سامان اسلام آباد آنے والے مظاہرین کی مدد کے لیے استعمال نہیں ہوگا،سرکاری ملازمین کو اسلام آباد آنے والے مارچ یا ریلی میں شرکت پر مجبور نہیں کیا جاسکتا، عدالت نے سرکاری ملازمین کو مارچ میں شرکت کے لیے آمادہ یا کسی بھی طریقے سے پابند کرنے سے روک دیا۔ عدالت نے کہا کہ صوبائی حکومتیں سرکاری افسران کو اسلام آباد آنے والے مارچ میں معاونت سے روکنے کی پابند ہیں۔ کسی افسر کو مارچ میں معاونت پر مجبور کیا جائے تو وہ فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دے،چیف سیکرٹریز، چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جیز افسران کی شکایات کے لیے رابطے کا طریقہ کار بنائیں،سرکاری افسران کسی سیاسی رہنما یا عوامی عہدیدار کی جانب سے جبر یا ترغیب کی اطلاع دے سکیں گے، احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے سرکاری افسران کے خلاف فوری محکمانہ کارروائی کی جائے۔

ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ اسلام آباد میں شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر کرنے والی کوئی بھی سرگرمی آئین کی خلاف ورزی تصور ہوگی، بنیادی حقوق متاثر کرنے میں ملوث شخص آئین اور قانون کے تحت نتائج کا ذمہ دار ہوگا، عوامی عہدہ رکھنے والے شخص کی جانب سے بنیادی حقوق متاثر کرنے والی کوئی بھی سرگرمی آئینی حلف کی خلاف ورزی ہوگی۔ عوامی عہدہ رکھنے والا شخص آئینی حلف کی خلاف ورزی پر آئین و قانون کے تحت نتائج کا ذمہ دار ہوگا، اسلام آباد میں کسی شخص کو دوسروں کے بنیادی حقوق متاثر کرنے والی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جاسکتی،اسلام آباد انتظامیہ شہریوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ صوبائی حکومتوں اور متعلقہ حکام کو عدالتی احکامات پر سختی سے عملدرآمد کریں۔ اسلام آباد آنے والے مارچ، جلوس یا ریلی سے شہریوں کے حقوق متاثر نہ ہونے دیئے جائیں، اسلام آباد میں آزادانہ نقل و حرکت، کاروبار، تعلیم اور طبی سہولیات تک رسائی متاثر نہیں ہونی چاہیے،اسلام آباد ہائی کورٹ نے صوبائی حکومتوں کو سرکاری مشینری کے سیاسی استعمال سے روک دیا۔

عدالت نے سرکاری وسائل کو اسلام آباد آنے والے سیاسی مارچ کے لیے استعمال کرنے پر پابندی عائد کردی۔ عدالت نے سرکاری ملازمین کو سیاسی مارچ میں شرکت کے لیے مجبور کرنے سے بھی روک دیا۔ عدالت نے چیف سیکرٹریز اور آئی جی پولیس عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کریں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو ریاستی اداروں کی ذمہ داری قرار دے دیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ کسی کو بھی قانون سے بالاتر ہوکر شہریوں کے راستے بند کرنے کا اختیار نہیں۔ عدالت نے سیاسی سرگرمیوں کے نام پر اسلام آباد میں شہریوں کی نقل و حرکت محدود کرنے سے روک دیا۔ اس سے قبل دوران سماعت چیف سیکرٹری اور آئی جی خیبر پختونخوا نے احتجاج میں سرکاری وسائل اور مشینری استعمال نہ ہونے سے متعلق بیان حلفی جمع کروایا۔ چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے آئی جی خیبرپختونخواہ ذوالفقار حمید سے استفسار کیا کہ غیر قانونی احتجاج کو روکنے کے لیے کیا اقدامات اٹھائیں گے ؟ بیان حلفی میں یہ ہونا چاہیے کہ کوئی غیر قانونی احتجاج نہیں کرنے دیں گے ، چیف جسٹس نے کہا کہ میں آپ کی طرف سے انڈر ٹیکنگ لکھتا دیتا ہوں وہ غیر قانونی احتجاج کی اجازت نہیں دیں گے ، آپ غیر قانونی احتجاج کو روکیں گے اور مظاہرین کو منتشر بھی کریں گے۔

آئی جی نے یقین دہانی کروائی کہ کوئی غیر قانونی کام ہوا تو ہم روکیں گے۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید ملک کی 2022 اور 2024ء کے پی ٹی آئی احتجاج کی ویڈیوز عدالت میں چلانے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے ویدیوز چلائیں۔ ایڈووکیٹ جنرل نے دلائل دیئے کہ اسلام آباد میں احتجاج سے متعلق قانون موجود ہے، درخواست دینی ہوتی ہے جو احتجاج کرے گا وہ پوری تفصیل دے گا تاکہ اس کے مطابق سکیورٹی انتظامات کیے جا سکیں، مجسٹریٹ کے پاس اختیار ہے کہ وہ اجازت کی درخواست مسترد بھی کر سکتا ہے، قانون میں لکھ دیا گیا کہ کوئی بھی احتجاج مجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر نہیں ہو گا، حکومت کا اختیار ہے کہ وہ کسی بھی ایریا کو ریڈزون قرار دے سکتی ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ اس لانگ مارچ کے دو مقاصد سامنے آتے ہیں، ایک مقصد سزا یافتہ قیدی کی رہائی اور دوسرا حکومت گرانا ہے کسی جگہ یہ شواہد نہیں ملتے کہ یہ ریلی پر امن رہے گی، پی ٹی آئی کے دونوں مطالبے غیرآئینی ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید ملک نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل کے پی کہتے ہیں کہ ہم رول آف لاء اور عدلیہ کی مضبوطی کیلئے احتجاج کر رہے ہیں، اگر کوئی رول آف لاء کیلئے لانگ مارچ کرنا چاہتا ہے تو اسے پتہ ہونا چاہیے سزا یافتہ قیدی عدالت کے ذریعے رہا ہو سکتا ہے، اگر آپ وزیراعظم سے ناخوش ہیں تو جائیں پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کریں، اگر آپ چوک چوراہوں پر حکومت گرانا چاہتے ہیں تو پھر رول آف لاء کی بات نہ کریں، عدالتوں میں مقدمات پہلے سے زیادہ دائر ہو رہے ہیں اس کا مطلب ہے عدلیہ پر عوام کا اعتماد بڑھ رہا ہے، یہ پورے وسائل کے ساتھ اسلام آباد آنا چاہتے ہیں ہم میں انہیں روکنے کی صلاحیت نہیں ہے، ہم تو صرف انتظامات کر سکتے ہیں کہ دفعہ 144 لگا دیں، ہم اپنے شہریوں پر گولیاں نہیں چلا سکتے، ان کی جانیں نہیں لے سکتے، اس سے پہلے کہ پانی سر سے گزر جائے پہلے اقدامات کرنے ہوں گے۔ عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا ۔بعد ازاں فیصلہ سناتے ہوئے درخواست ہدایات کے ساتھ نمٹا دی ۔