اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے کنوینئر غلام محمد صفی نے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں سوپور، سرینگر، ہندواڑہ اور کپواڑہ میں شہید ہونے والے بے گناہ شہریوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جن شہدا نے بھارتی فوج کے ریاستی جبر اور فوجی قبضے کے خلاف …
کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کا بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں سوپور، سرینگر، ہندواڑہ اور کپواڑہ میں شہید ہونے والے بے گناہ شہریوں کو خراجِ عقیدت

مزید خبریں
اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے کنوینئر غلام محمد صفی نے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں سوپور، سرینگر، ہندواڑہ اور کپواڑہ میں شہید ہونے والے بے گناہ شہریوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جن شہدا نے بھارتی فوج کے ریاستی جبر اور فوجی قبضے کے خلاف اپنی جانیں قربان کیں ، وہ ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہدا کی قربانیوں کو ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور حق خودارادیت کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی۔
انہوں نے افسوس کا ا ظہار کیا کہ اپنا پیدائشی اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ حقِ خودارادیت کا مطالبہ کرنے کی پاداش میں بھارتی فورسز نے جنوری میں اب تک سوپور، سرینگر، ہندواڑہ اور کپواڑہ میں فائرنگ، آتش زنی اور بارودی کارروائیوں میں نہتے کشمیری عوام کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں سینکڑوں کشمیری شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ اس دوران گھروں، بازاروں اور عمارات کو آگ لگا ئی گئی اور اب تک کسی بھی فوجی افسر یا اہلکار کو ان جنگی جرائم پر جوابدہ نہیں ٹھہرایا گیا۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں نافذ آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA) اور پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) جیسے کالے قوانین نے بھارتی فوج کو کھلی چھوٹ اور ریاستی استثنافراہم کیا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، جعلی مقابلے، تشدد، انحرافِ انصاف اور اجتماعی سزاؤں جیسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں جو عالمی قانون کے مطابق جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ بھارتی فوج کی تمام تر سفاکیت، جارحیت اور قبضے کے باوجود کشمیری قوم نے گزشتہ سات دہائیوں میں اپنے حقِ خودارادیت کے لئے جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے۔ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد نہ دہشت گردی ہے اور نہ علیحدگی پسندی بلکہ یہ ایک تاریخی، سیاسی اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ جدوجہدِ آزادی ہے جسے اقوام متحدہ نے خود اپنی قراردادوں کے ذریعے تسلیم کیا ہے۔انہوں نے اقوامِ متحدہ، او آئی سی ،یورپی یونین، برطانوی پارلیمنٹ، انسانی حقوق کمشنر اور عالمی سول سوسائٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی سے روکنے اور اقوام متحدہ کی زیر نگرانی کشمیر میں رائے شماری کے ذریعے کشمیریوں کو ان کا حقِ خودارادیت دینے کے لئے عملی اقدامات کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی نہ صرف بھارتی فورسز کو مزید جرات و حوصلہ دیتی ہے بلکہ جنوبی ایشیا کی امن و استحکام کے لیے بھی خطرہ ہے۔ انہوں نے شہدا کے خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کا مرکز ہمیشہ کشمیری عوام رہیں گے۔








