کل جماعتی حریت کانفرنس کی اقوام متحدہ کے دفتر میں انسانی حقوق کے عالمی دن پر یادداشت پیش، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد، حق خود ارادیت، سیاسی قیدیوں کی رہائی پر زور

اسلام آباد/کوٹلی۔10دسمبر (اے پی پی):کل جماعتی حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی)نے بدھ کو اسلام آباد میں اقوام متحدہ (یو این) کے دفتر میں ایک یادداشت پیش کی جس میں کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد، حق خود ارادیت، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور بھارتی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے پر زور دیا گیا۔یادداشت میں ان قوانین کے مسلسل نفاذ پر شدید …

اسلام آباد/کوٹلی۔10دسمبر (اے پی پی):کل جماعتی حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی)نے بدھ کو اسلام آباد میں اقوام متحدہ (یو این) کے دفتر میں ایک یادداشت پیش کی جس میں کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد، حق خود ارادیت، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور بھارتی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے پر زور دیا گیا۔یادداشت میں ان قوانین کے مسلسل نفاذ پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا جن میں بین الاقوامی انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں کی گئی ہیں، غیر انسانی قوانین کے ذریعے معصوم کشمیریوں کی گرفتاری، تلاشی اور بلاوجہ حراست میں لینے کیلئے سکیورٹی فورسز کو وسیع اختیارات دیئے گئے ہیں۔ یہ اختیارات اور قوانین سکیورٹی فورسز کو احتساب سے بچانے کیلئے ہیں جو بین الاقوامی قوانین سے مطابقت نہیں رکھتے۔ یہ قوانین ایک ایسا ماحول بناتے ہیں جس میں خلاف ورزیاں مؤثر استثنیٰ کے ساتھ ہو سکتی ہیں، انصاف، مناسب عمل اور شہری تحفظ کے بنیادی اصولوں کو مجروح کرتے ہیں۔

یادداشت میں کہا گیا ہے کہ حالیہ قانون سازی اور انتظامی اقدامات نے متنازعہ علاقے کی آبادیاتی تبدیلی کے حوالے سے سنگین خطرہ خدشہ پیدا کیا ہے جو کہ متنازعہ علاقوں پر حکومت کرنے والی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کے خلاف ہے۔اے پی ایچ سی نے اقوام متحدہ کے دفتر پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے حقائق کی تلاش یا تشخیص کا مشن ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں بھیجے تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا آزادانہ طور پر جائزہ لیا جا سکے۔یادداشت نے اقوام متحدہ کے میکانزم، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ انسانی حقوق کے اداروں تک بلا روک ٹوک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے بھارتی حکومت کو شامل کرنے پر زور دیا۔یادداشت میں اقوام متحدہ کے دفتر سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ جموں و کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے ہندوستان پر دباؤ ڈالے جس کا مقصد شہری حقوق کے تحفظ اور عوام کی امنگوں کے مطابق پرامن، منصفانہ اور پائیدار قرارداد کو فروغ دینا ہے۔

دریں اثناء کل جماعتی حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) نے ’’ تنازعہ کشمیر: انسانی حقوق کے پہلو‘‘ کے عنوان سے یونیورسٹی آف کوٹلی میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا جس میں دانشوروں، اساتذہ، طلباء و طالبات اور فیکلٹی ممبران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ 2020ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ یونیورسٹی آف کوٹلی میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے اس سیمینار کا انعقاد کیا۔ مقررین میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینئر غلام محمد صفی اور جنرل سیکرٹری اے پی ایچ سی ایڈووکیٹ پرویز احمد شاہ کے علاوہ یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران شامل تھے۔ غلام محمد صفی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسئلہ کشمیر وہ مسئلہ ہے جس کی قراردادیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں موجود ہیں اور بھارت خود اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے، اس دوٹوک حقیقت کے باوجود یہ مسئلہ اس لئے حل نہیں ہو پا رہا کہ اقوام متحدہ مفلوج ہو چکا ہے اور طاقتور ممالک کے ہاتھوں کھلونا بن چکا ہے، اسی کمزوری کا نتیجہ ہے کہ مظلوم کشمیریوں کی غلامی طویل سے طویل تر ہوتی جا رہی ہے۔

حریت کانفرنس کے سیکرٹری جنرل ایڈووکیٹ پرویز احمد شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں حقیقی معنوں میں نسل کشی کر رہا ہے، وہ انسانی حقوق کے عالمی منشور اور اقوام متحدہ کے چارٹر سمیت تمام اصولوں کو روند رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی نے بھارت کو مزید بدمست کر دیا ہے اور وہ فالس فلیگ آپریشن کے منصوبے بنا کر کشمیریوں کے قتل عام کا راستہ ہموار کر رہا ہے تاکہ انہیں طاقت کے بل بوتے پر صفحہ ہستی سے مٹا سکے۔ دیگر مقررین نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کی آواز کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں ہم سب کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہے، آج ہم یونیورسٹی آف کوٹلی میں ایک مقدس عہد کے ساتھ جمع ہوئے ہیں، یہ عہد ہمیں کشمیری عوام کے ساتھ جوڑتا اور اظہار یکجہتی کا پیغام دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر کبھی حسن اور خوبصورتی کا شاہکار تھی لیکن بھارتی فوج کے ظلم و جبر نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو آج دنیا کے طویل ترین عسکری محاصرے میں بدل دیا ہے۔ اس موقع پر طلباء کی طرف سے مختلف سوالات کئے گئے جن کے کل جماعتی حریت کانفرنس کے وفد نے بھرپور اور مدلل جواب دیئے۔ سوال کرنے والے طلباء میں تھرڈ آپشن کے حامی بھی تھے۔ سیمینار کے اختتام پر طلباء نے عہد کیا کہ وہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے زیر اہتمام منعقد کی جانے والی ریلی میں بھرپور شرکت کریں گے۔ سیمینار کے اختتام پر شہداء جموں و کشمیر کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔