اسلام آباد۔7مارچ (اے پی پی):کل جماعتی حریت کانفرنس کے سیکریٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی خواتین کی ابتر انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری خواتین تحریکِ آزادی کشمیر کا ایک ناقابلِ فراموش اور لازوال باب ہیں۔یہاں جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں کشمیری خواتین …
کل جماعتی حریت کانفرنس کے سیکرٹر ی اطلاعات مشتاق احمد بٹ کا خواتین کے عالمی دن کے موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی خواتین کی ابتر انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار

مزید خبریں
اسلام آباد۔7مارچ (اے پی پی):کل جماعتی حریت کانفرنس کے سیکریٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی خواتین کی ابتر انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری خواتین تحریکِ آزادی کشمیر کا ایک ناقابلِ فراموش اور لازوال باب ہیں۔یہاں جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں کشمیری خواتین کے جرات مندانہ اور بے مثال کردار کی پاداش میں انہیں بھارتی قابض افواج کی بدترین ریاستی جبر و استبداد کا سامنا کرناپڑ رہا ہے۔
مشتاق احمد بٹ نے تحریکِ آزادی کے لیے عظیم قربانیاں پیش کرنے والی کشمیری خواتین کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج نے خواتین کے خلاف جنسی تشدد کو ایک منظم ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی طویل فہرست میں کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری سے لے کر شویپیاں و جموں میں دوہرے قتل و عصمت دری جیسے دلخراش واقعات شامل ہیں، جو اس امر کی واضح شہادت ہیں کہ قابض افواج کشمیری خواتین کی عزت و وقار کو پامال کرنے کے لیے ریاستی طاقت کا بے دریغ استعمال کر رہی ہیں۔
سکریٹری اطلاعات نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں خواتین کو نہ صرف جنسی استحصال بلکہ جسمانی، نفسیاتی اور جذباتی تشدد کا بھی مسلسل سامنا ہے۔ بھارتی افواج نے 1989 سے اب تک ہزاروں کشمیری مردوں کو گرفتار کرکے لاپتہ کیا یا جعلی مقابلوں میں شہید کر دیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں خواتین ایسی ہیں جو آج تک اپنے شوہروں کے بارے میں لاعلم ہیں کہ وہ زندہ ہیں یا شہید کر دیے گئے۔
یہ خواتین انسانی المیے کی ایک منفرد اور دردناک علامت بن چکی ہیں اور “نیم بیوہ” کی حیثیت سے کربناک زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں ۔سیکرٹر ی اطلاعات مشتاق احمد بٹ نے مزید کہا کہ کشمیری خواتین اور بچیوں کو خوف و ہراس کا شکار بنانے کے لیے بھارتی فورسز نے پیلٹ گنز کا اندھا دھند استعمال کیا، جس کے نتیجے میں حبہ نثار اور انشا مشتاق سمیت سینکڑوں معصوم بچیاں اور خواتین اپنی بینائی سے محروم ہو چکی ہیں۔یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مقبوضہ علاقے میں انسانی وقار اور بنیادی حقوق کی کوئی قدر باقی نہیں رہی۔
انہوں نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ کشمیری خواتین رہنماؤں کو محض اپنے پیدائشی حق، یعنی حقِ خودارادیت کے مطالبے کی پاداش میں جیلوں میں قید رکھا گیا ہے۔ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین سمیت درجنوں کشمیری خواتین آج بھی تہاڑ جیل اور مقبوضہ کشمیر کی مختلف جیلوں* میں نظربند ہیں، جہاں وہ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے کے باوجود بنیادی طبی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔
مشتاق احمد بٹ نے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)، عالمی برادری اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے پرزور اپیل کی کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیری خواتین کے خلاف جاری جنسی، نفسیاتی، جذباتی اور جسمانی تشدد کا فوری نوٹس لیں، اور تہاڑ جیل سمیت بھارت کی مختلف جیلوں میں قید کشمیری خواتین کی رہائی کے لیے بھارت پر مؤثر اور عملی دباؤ ڈالیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی خاموشی انسانی حقوق کے عالمی اصولوں اور انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے، اور کشمیری خواتین کے دکھوں کا مداوا صرف اسی صورت ممکن ہے جب انہیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔







