کمیونٹی کی آگاہی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سیلابی صورتحال سے موثر طور پر نمٹا جاسکتا ہے، ڈاکٹر مصدق ملک

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ کمیونٹی کی آگاہی اور جدید ٹیکنالوجی سے سیلابی صورتحال سے موثر طریقے سے نمٹا جاسکتا ہے

اسلام آباد۔31مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ کمیونٹی کی آگاہی اور جدید ٹیکنالوجی سے سیلابی صورتحال سے موثر طریقے سے نمٹا جاسکتا ہے،انفراسٹرکچر اور کنیکٹوٹی کو مضبوط بنانااہمیت کا حامل ہے، موسمیاتی چیلنجز شدت اختیار کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں ڈیٹا شیئرنگ،تحقیق اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں فلڈ ارلی وارننگ اور پیشگی کارروائی کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی عصر حاضر کا بڑا چیلنج ہے،ناگہانی آفات کے حوالے سے مقامی کمیونیٹیز کی تربیت بھی ضروری ہے،سیلاب کی وجہ سے بڑی تعدا میں لوگوں کو نقل مکانی کر نا پڑی۔ انہوں نے کہا کہ پایہ دار شراکت داری اور وسائل کے موثر استعمال سے بہتر پیشگی منصوبہ بندی ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ موسمیاتی آفات محض اعداد و شمار نہیں بلکہ انسانی المیوں کی حقیقی کہانیاں ہیں جنہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حالیہ سیلاب کے بعد ایک بچہ ہاتھ میں پھٹی ہوئی گیلی کتاب لیے اپنے والد کی طرف دیکھ رہا تھا جبکہ اس کا گھر اور سکول تباہ ہو چکے تھے، یہی کسی بھی ڈیزاسٹر کی اصل تصویر ہے جہاں بچوں کی آنکھوں میں خوف اور والدین کی بے بسی نظر آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہزاروں اموات اور لاکھوں متاثرین کے اعداد و شمار اپنی جگہ مگر ایک انسانی جان کا نقصان مکمل دنیا کے ختم ہونے کے مترادف ہے، ملک میں آنے والے سیلابوں کی وجہ سے بہت نقصان ہوا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر بروقت وارننگ سسٹم موثر نہ ہو اور لوگوں کو محفوظ مقام تک منتقل کرنے کا عملی انتظام نہ ہو تو باقی تمام اقدامات بے معنی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ایسا مربوط نظام موجود ہے جوفلیش فلڈ یا گلیشیئر لیک پھٹنے کی صورت میں 20 سے 30 منٹ پہلے لوگوں کو خبردار کر سکے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ کئی مقامات پر آلات نصب تو ہیں مگر ان کی کنیکٹوٹی موجود نہیں جس سے ان کی افادیت ختم ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وارننگ سسٹم کو ضلعی انتظامیہ، پولیس، کمیونٹی اور گھروں تک موثر طریقے سے منسلک ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی جیسے سیٹلائٹ، ڈرونز اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے موثر نظام قائم کیا جا سکتا ہے مگر اس کے لیے مربوط حکمت عملی اورعملی اقدامات ضروری ہیں۔انہوں نے صوبائی اور وفاقی حکومتوں پر زور دیا کہ دریا کے کناروں پر غیر قانونی تعمیرات اور خطرناک علاقوں میں آبادکاری کو فوری روکا جائے کیونکہ یہ مستقبل میں مزید تباہی کا سبب بنتی ہیں۔انہوں نےکہا کہ موسمیاتی چیلنجز شدت اختیار کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں ڈیٹا شیئرنگ، تحقیق اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات حکومت، صوبوں اور کمیونٹیز سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔