کنٹرولڈماحولیاتی ٹیکنالوجی کے فروغ سے پھلوں اور سبزیوں کی بڑی کھیپ بیرون ملک بجھوائی جا سکتی ہے،ڈاکٹر اقرار احمدخان

فیصل آباد۔ 12 جون (اے پی پی):وائس چانسلر جامعہ زرعیہ فیصل آباد ڈاکٹر اقرار احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں پھلوں و سبزیوں کی سالانہ 15ملین ٹن پیداوارمیں سے تقریباً4 فیصد برآمد،70 فیصد مقامی سطح پر استعمال اور باقی بعد از برداشت مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہے جس سے ملکی معیشت کو سالانہ تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے …

فیصل آباد۔ 12 جون (اے پی پی):وائس چانسلر جامعہ زرعیہ فیصل آباد ڈاکٹر اقرار احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں پھلوں و سبزیوں کی سالانہ 15ملین ٹن پیداوارمیں سے تقریباً4 فیصد برآمد،70 فیصد مقامی سطح پر استعمال اور باقی بعد از برداشت مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہے جس سے ملکی معیشت کو سالانہ تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے ، اس نقصان کو روکنے کےلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں سبزیوں اور پھلوں کی بہترین پیداوار حاصل ہو رہی ہے لیکن مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث ان کی بڑی تعداد ضائع اور خراب ہو جاتی ہے ،

اگرپاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا کے دیگر ممالک میں کنٹرولڈماحولیاتی ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جائے تو اس سے نہ صرف سبزیوں اور پھلوں کو زیادہ دیر تک محفوظ رکھا جاسکتاہے بلکہ اس ٹیکنالوجی کے باعث بحری راستے سے کم خرچ میں پھلوں اور سبزیوں کی بڑی کھیپ دور دراز بیرون ممالک کو بھی بھجوائی جا سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سمندری راستو ں سے چالیس فٹ کے کنٹینر میں بیس ٹن آم برآمد کئے جا سکتے ہیں لہٰذا ہمیں بہتر آم کی قسموں کو باہر بجھوانے کےلئے سنجیدگی سے کاوشیں بروئے کار لانا ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ یہاں آم،کینو، سیب، سبز مرچ اور دیگر سبزیوں کو زیادہ عرصے تک محفوظ رکھنے کےلئے کامیاب تجربات بھی کئے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک کلو گرام آم کو بذریعہ ہوائی جہاز یورپ برآمد کرنے پر تقریباً300روپے لاگت آتی ہے جبکہ سمندری راستے سے یہ لاگت صرف 95 روپے فی کلو گرام رہ جاتی ہے لہٰذا ہمیں کنٹینرز کے اندر ماحول کو مناسب انداز سے کنٹرول ،پھلوں اور سبزیوں کی شیلف لائف بڑھاتے ہوئے انہیں بحری راستوں سے برآمد کرنے کی جانب بھی توجہ مرکوز کرنا ہوگی تاکہ زیادہ سے زیادہ زر مبادلہ کما کر ملکی معیشت کو مزید مستحکم کیا جاسکے۔