کوروناوائرس جیسی وباءپر کسی قسم کی سیاست نہیں کرنی چاہیے، ڈاکٹرز کے پاس ان حالات میں ہڑتال پر جانے کا کوئی جواز نہیں بنتا، وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد

لاہور۔17مارچ(اے پی پی ) صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہاہے کہ ڈیرہ غازی خان میں آنے والے زائرین کے پہلے بیج میں شامل 42افراد میں سے 5افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد پنجاب میں متاثرہ افراد کی کُل تعداد 6ہوچکی ہے، سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی بہترین دیکھ بھال کیلئے ایک ہفتہ پہلے سے میڈیکل ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی اور نیشنل سکیورٹی کونسل کے …

لاہور۔17مارچ(اے پی پی ) صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہاہے کہ ڈیرہ غازی خان میں آنے والے زائرین کے پہلے بیج میں شامل 42افراد میں سے 5افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد پنجاب میں متاثرہ افراد کی کُل تعداد 6ہوچکی ہے، سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی بہترین دیکھ بھال کیلئے ایک ہفتہ پہلے سے میڈیکل ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی اور نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس کے بعد تمام تعلیمی اداروں، دینی مدارس اور اجتماع پر لوگوں کی ہر قسم کی سرگرمی پر پابندی لگائی گئی ہے،ڈاکٹرز کے پاس ان حالات میں ہڑتال پر جانے کا کوئی جواز نہیں بنتا،پنجاب میںاس وقت 1250وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں اور مزید 1000وینٹی لیٹرز کی خریداری کا عمل شروع کر دیاگیاہے،کورونا وائرس بہت جلدی پھیلنے والی وباءہے،وائرس سے متاثرہ 80 فیصد افراد خودبخود ریکورکر جائیں گے باقی 20 فیصد افراد کو ہسپتال لا کر ایک سے دو فیصد افراد کو وینٹی لیٹر پر رکھنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کی روز یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت فیاض الحسن چوہان اور اراکین پنجاب اسمبلی مسرت جمشید چیمہ اور سمیرا ملک بھی موجود تھے۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین نے بتایاکہ اس وقت ڈیرہ غازی خان میں 736 افراد زیرنگرانی ہیں جن کو محدود کرکے ہر طرح کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے،تمام صورتحال کے بارے عوام کو لمحہ بہ لمحہ آگاہ کیاجا رہا ہے، کورونا وائرس کی وباءکے پھیلاﺅ کو روکنے کیلئے تمام سرگرمیوں کو محدود کرنا ہی بہتر ہے، محکمہ اوقاف نے بھی حالات کے پیش نظر مزاروں کو بند کر دیا ہے،عوام سے باہر سیر و تفریح کرنے کی بجائے غیرضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کی گزازش کر رہے ہیں، حکومت نے یہ تمام اقدامات مجبوری کے تحت اٹھائے ہیں،حکومت نے ابھی تک ہر قسم کا کاروبار روک کر لاک ڈاﺅن نہیںکیا، ہماری جانب سے کاروبار چلائے رکھنے کی ہرممکن کوشش ہے، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے ساتھ ملاقات میں علماءو مشائخ نے بھی دینی مدارس اور مساجد میں کورونا وائرس کے بارے زیادہ سے زیادہ آگاہی دینے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات زیادہ اہم ہے کہ آپ گھروں میں رہ کر اپنے آپ اور گھر والوںکو اس وباءسے بچائیں، گھر میں اگر کسی کو نزلہ اور زکام ہے تو وہ یا تیماری داری کرنے والا ماسک ضرور پہنے، کورونا وائرس کے حوالہ سے اعداد و شمار روزانہ کی بنیاد پر عوام سے شیئر کئے جائیں گے، تمام اسٹیک ہولڈرز کو اس موذی بیماری کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس وباءپر کسی قسم کی سیاست نہیں کرنی چاہیے۔صوبائی وزیر نے صحافیوں کے سوالوںکے جواب میں کہاکہ ڈاکٹرز کے پاس ان حالات میں ہڑتال پر جانے کا کوئی جواز نہیں بنتا،گزشتہ روز لاہور کے 2 بڑے ہسپتالوں سروسز اور میﺅمیں خود جاکر انتظامات کا جائزہ لیا ہے،آئیسولیشن وارڈز میں فرائض سرانجام دینے والے ڈاکٹرز کو مکمل حفاظتی اور طبی سامان مہیا کر دیاگیا ہے، تمام سرکاری ہسپتالوں میں 25 ہزار طبی سامان مہیا کیاگیا ہے جن میں ڈسٹرکٹ اور تحصیل ہیڈکوارٹرز ہسپتال بھی شامل ہیں، چائنہ میں کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج معالجہ کے دوران جان کی بازی ہارنے والے ڈاکٹرز کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں جن کی خدمات کی بدولت چائنہ میں مریض تیزی سے ریکور ہو رہے ہیں، تمام ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کو حفاظتی سامان ترجیحی بنیادوں پر مہیا کیا جائے گا،منڈی بہاﺅالدین سے رات بارہ بجے لائے جانے والے مریض کو تشویشناک حالت میں لایاگیا تھا جس کو آئیسولیشن میں رکھا گیا تھا۔ مریض پہلے ہی قومہ میں تھا۔ اب اس کے خون کا نمونہ لے کر ٹیسٹ کے رزلٹ آنے پر ہی ہلاکت کی وجہ بتائی جائے گی۔ مریض ایران سے مسقط گیا اور پھر پاکستان آیا جس کی وجہ سے اس کو آئسولیشن وارڈ میں رکھا گیا تھا،سرکاری ہسپتالوں میں مشتبہ اور کورونا وائرس کے مریضوں کو الگ وارڈزمیں رکھا جا رہا ہے، پنجاب میں مظفرگڑھ میں طیب اردگان، لاہور میں پی کے ایل آئی، راولپنڈی میںانسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اور بہاولپور میں سول ہسپتال کو کورونا وائرس کے مریضوں کیلئے مختص کیاگیاہے،زائرین کا سب سے زیادہ بوجھ پنجاب پر پڑے گا کیونکہ زائرین کی سب سے زیادہ تعداد کے ٹیسٹ پنجاب میں ہو رہے ہیں، پنجاب بڑا صوبہ ہونے کے ناطے زیادہ بوجھ بھی اٹھائے گا، وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں تمام صوبوں کو اکٹھاچلنے کی ہدایت کی گئی ہے، گذشتہ روز بھی وزیراعظم نے ویڈیو لنک کانفرنس میں سب سے زیادہ وزیراعلیٰ سندھ کی تجاویز اور گزارشات سنیں،ڈیرہ غازی خان میں 736زائرین کے تفتان میں اکٹھے رہنے سے وباءزیادہ پھیلی ہے،میو ہسپتال میں کورونا وائرس کے مریض کے اہل خانہ کو بھی ٹیسٹ کرکے محدود کر دیاگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اخلاقی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر انسان کو ان علامات کے ساتھ اپنے آپ کو محدود کر لیناچاہیے، پنجاب میںاس وقت 1250وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں اور مزید 1000وینٹی لیٹرز کی خریداری کا عمل شروع کر دیاگیاہے، اہم بات یہ ہے کہ کورونا وائرس کا ہر مریض وینٹی لیٹر پر منتقل نہیں کیاجاتا،زائرین کا دوسرا گروپ بہاولپور جا رہا ہے، 1200لوگوں کیلئے کورنٹین قائم کردیاگیا ہے،زائرین کے تیسرے گروپ کو ملتان میں رکھا جائے گا اس کے علاوہ کالاشاہ کاکو میںالگ کورنٹین بنا دی گئی ہے، کورونا وائرس کی تصدیق یا شبہ والے مریضوں کو الگ محدود مقام پر رکھا جائے گا، مریضوں کے پہلے گروہ کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے، راولپنڈی میں بھی ایک کورنٹین قائم کیا جا رہا ہے، جیلوںمیں قیدیوں کے عزیزو اقارب ملنے سے گریز کریں اس لئے حکومت پنجاب نے قیدیوں کو ملنے پر پابندی لگا دی ہے، محکمہ پولیس کے ملازمین کی سہولت کی خاطر پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ لاہور میں ہسپتال کو کورنٹین سنٹر میں منتقل کرنے جا رہے ہیں،اسی طرح ہر ڈویژن میں ایک ایک ہسپتال کو مختص کر دیاجائے گا۔