کورونا بیماری سے بازیابی میں بدعنوانی سے نمٹنے کے اقدامات شامل ہونا ضروری ہیں، اقوام متحدہ

اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کےسیکرٹری جنرل انتونیو گو ئیٹیرس نے بدعنوانی اور رشوت خوری کے خاتمے کے لئے اجتماعی طور پر کام کرنے پر زوردیاہے اور متنبہ کیا ہے کہ کورونا وائرس کے بحران نے اس برائی کے لئے مزید مواقع پیدا کردیئے ہیں۔انہوں نے دسمبر میں ہر سال منا ئے جانے والےانسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پراپنے پیغام میں کہا کہ وائرس پر قابو پانے …

اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کےسیکرٹری جنرل انتونیو گو ئیٹیرس نے بدعنوانی اور رشوت خوری کے خاتمے کے لئے اجتماعی طور پر کام کرنے پر زوردیاہے اور متنبہ کیا ہے کہ کورونا وائرس کے بحران نے اس برائی کے لئے مزید مواقع پیدا کردیئے ہیں۔انہوں نے دسمبر میں ہر سال منا ئے جانے والےانسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پراپنے پیغام میں کہا کہ وائرس پر قابو پانے اور علاج کے لئے ویکسین کی تیاری نے رشوت اور منافع بخش مواقع پیداہونے کےخدشات میں اضافہ کیا ہے۔اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ حکومتیں معیشتوں کی دوبارہ بحالی ، ہنگامی امداد فراہم کرنے اور طبی سامان کی فراہمی کے لئے تیزی سے خرچ کر رہی ہیں تاہم ان اخراجات کی نگرانی کمزور ہوسکتی ہے۔گو ئیٹریس نے کہا کہ وبائی بیماری سے بازیابی میں بدعنوانی اور رشوت ستانی سے بچنے اور ان سے نمٹنے کے لئے اقدامات شامل کیے جانے چاہیئیں۔ہمیں نگرانی ، احتساب اور شفافیت کو مستحکم کرنے ، بدعنوانی کے خلاف اقوام متحدہ کے کنونشنز کے ذریعہ فراہم کردہ عالمی انسداد بدعنوانی کے طریقوں کی تشکیل کے لئے وسیع شراکت کی ضرورت ہے۔اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہاکہ بدعنوانی ان لوگوں سے واسائل چھین لیتی ہے جن کو وسائل کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ اداروںمیں اعتماد کم کرتی ہے ۔وائرس کے ذریعہ بے نقاب ہونے والی وسیع عدم مساوات کو بڑھاتی ہے اور معیشت کی کی بازیابی میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں ، بدعنوان رہنمائوں اور حکومتوں پر غصہ اور مایوسی پھیلی ہےجبکہ بعض ممالک میں ، لوگ سماجی انصاف اور احتساب کے مطالبات کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے مطابق ، بدعنوانی کے خلاف کارروائی وسیع تر قومی اور بین الاقوامی اصلاحات اور گڈ گورننس کو مستحکم کیا جانا چاہیئے جس کے لئے غیر قانونی مالی بہاو¿ اور ٹیکس بچانے والو ں کے خلاف اور چوری شدہ اثاثوں کی واپسی کے لئے اقدامات ہونے چاہیئیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم سب کو حکومتوں ، کاروباری اداروں ، سول سوسائٹی اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو جوابدہی اور احتساب کو فروغ دینے کے لئے مل کر کام کرنے کا عزم کرنا چاہئے ۔