پیرس۔9اکتوبر (اے پی پی): عالمی بینک نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ کورونا وائرس وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی بحران سے دنیا بھر میں ساڑھے 11 کروڑ افراد انتہائی غربت کا شکار ہو سکتے ہیں۔فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق عالمی بینک کے صدر ڈیوڈ مالپاس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کورونا وائر س کی وبا کے باعث پیدا ہونے والی عالمی کساد بازاری سیدنیا کی 1.4 …
کورونا وائرس، معاشی بحران سے دنیا بھر میں ساڑھے 11 کروڑ افراد انتہائی غربت کا شکار ہو سکتے ہیں، عالمی بنک

مزید خبریں
پیرس۔9اکتوبر (اے پی پی): عالمی بینک نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ کورونا وائرس وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی بحران سے دنیا بھر میں ساڑھے 11 کروڑ افراد انتہائی غربت کا شکار ہو سکتے ہیں۔فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق عالمی بینک کے صدر ڈیوڈ مالپاس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کورونا وائر س کی وبا کے باعث پیدا ہونے والی عالمی کساد بازاری سیدنیا کی 1.4 فیصد ا?بادی انتہائی غربت تک پہنچ سکتی ہے اورا?ئندہ سال 2021 تک 15 کروڑ افراد انتہائی غربت کی لیکر سے نیچے زندگی گزار رہے ہوں گے، جن کی روزانہ ا?مدن 1.9 ڈالر یا تقریباً 311 پاکستانی روپے ہوگی۔رپورٹ میں بینک کا کہنا ہے کہ اگر یہ وبا نہ ا?تی تو عالمی انتہائی غربت کی شرح 7.9 فیصد تک گرنے کی توقع کی جارہی تھی تاہم اب یہ شرح 9.4 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔دنیا میں 40 فیصد سے زائد غریب افراد تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں رہتے ہیں اور عالمی بینک کی رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے ان علاقوں میں ”غربت کے ہاٹ سپاٹ” بن سکتے ہیں جہاں پہلے ہی معاشی بحران اور تنازعات موجود ہیں۔عالمی بینک کے مطابق تنازعات اور ماحولیاتی تبدیلی کے دباوکے ساتھ ا?نے والی وبا کووڈ 19 کی وجہ سے 2030 تک غربت مٹانے کا ہدف پورا ہونے کے بجائے پہنچ سے مزید دور ہوجائے گا، جب تک کہ فوری اور اہم اقدامات نہیں کیے جاتے ہیں۔








