کورونا وائرس سے بچائو کے لیے محفوظ اور موثر ویکسین ہی اولین ترجیح ہے، عالمی ادارہ صحت

جنیوا ۔ 10 ستمبر (اے پی پی) عالمی ادارہ صحت کی چیف سائنٹسٹ سومیا سوامیناتھن نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے بچائو کے لیے محفوظ اور موثر ویکسین ہی اولین ترجیح ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابقبرطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی اور دوا ساز کمپنی آسٹرا زینیکا کی جانب سے کورونا وائرس سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار کی جانے والی ویکسین کی آزمائش کے آخری مرحلے کو اْس وقت روک …

جنیوا ۔ 10 ستمبر (اے پی پی) عالمی ادارہ صحت کی چیف سائنٹسٹ سومیا سوامیناتھن نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے بچائو کے لیے محفوظ اور موثر ویکسین ہی اولین ترجیح ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابقبرطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی اور دوا ساز کمپنی آسٹرا زینیکا کی جانب سے کورونا وائرس سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار کی جانے والی ویکسین کی آزمائش کے آخری مرحلے کو اْس وقت روک دیا گیا جب اس آزمائش میں شامل ایک امیدوار پر ویکسین کا شدید نوعیت کا منفی رد عمل سامنے آیا۔ کورونا ویکسین کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت کی چیف سائنٹسٹ نے ایک سوشل میڈیا ایونٹ میں کہا کہ کورونا وائرس کے باعث بحران سے دوچار ملکی معیشتوں کی بحالی کے لیے ویکسین کی تیز اور جلد تیاری کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ کورونا ویکسین کے معیار اور صحت کے اصولوں پر سمجھوتا کیا جائے یا ٹرائلز میں ویکسین کے محفوظ اور موثر ثابت ہوئے بغیر اسے دستیاب کر دیا جائے لہذا محفوظ اور موثر ویکسین کی تیاری کے لیے وقت درکار ہے اور لوگوں کو دستیاب کی جانے والی ویکسین اور ادویات کو ٹرائلز قواعدوضوابط کے مرحلوں سے گزرنے کے بعد ہی اس کی مارکیٹ میں دستیابی یقینی بنائے جائے گی اس لیے کورونا وائرس سے بچائو کے لیے محفوظ اور موثر ویکسین ہی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2021کے اختتام تک کورونا ویکسین کی 2 بلین خوراکیں دستیاب کر دی جائیں گی حالانکہ اب تک ٹھوس فنڈز اکٹھا کرنے کے اہداف بہت کم ہیں۔ بعض کمپنیوں کے ذریعہ پیش کردہ حجم خرید اور ممکنہ قیمتوں کا تعین ویکسین کو مزید سستی بنانے میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے سب کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر اگر ہر ملک اور ہر تنظیم اپنے طور پر یہ کام کرنے کی کوشش کرتی ہے تو یہ طویل اور مشکل ہوگا کیونکہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ دنیا کو ویکسین کی اربوں خوراکوں کی ضرورت ہو گی۔