اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):نیشنل کمانڈ ایندآپریشن سنٹر کے سربراہ ،وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی ، اصلاحات و خصوصی اقدامات اسدعمر نے کہا ہے کہ جمہوری نظام کا مطلب یہ نہیں کہ سیاسی لیڈر ایسے فیصلے کریں جس سے زندگی اور روزگار خطرے میں پڑے، پہلی لہر کے مقابلہ میں کورونا کی دوسری لہر بہت خطرناک ہے، اگر لوگوں نے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کیں تو شاید ہفتے بعد خدشہ …
کورونا وائرس کی دوسری لہر پہلی لہر کے مقابلہ میں بہت خطرناک ہے ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی ، اصلاحات و خصوصی اقدامات اسدعمر

مزید خبریں
اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):نیشنل کمانڈ ایندآپریشن سنٹر کے سربراہ ،وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی ، اصلاحات و خصوصی اقدامات اسدعمر نے کہا ہے کہ جمہوری نظام کا مطلب یہ نہیں کہ سیاسی لیڈر ایسے فیصلے کریں جس سے زندگی اور روزگار خطرے میں پڑے، پہلی لہر کے مقابلہ میں کورونا کی دوسری لہر بہت خطرناک ہے، اگر لوگوں نے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کیں تو شاید ہفتے بعد خدشہ ہے کہ مزید بندشیں لگانی پڑیں، ہسپتالوں میں کووڈ۔19 کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا جارہا ہے اور اموات بڑھ رہی ہیں۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے بدھ کو این سی او سی میں میڈیا بریفنگ کے دوران کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر لوگوں نے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کیں تو شاید ہفتے بعد خدشہ ہے کہ مزید بندشیں لگانی پڑیں۔ ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا جارہا ہے اور اموات بڑھ رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپنی خاطر، اپنے اہل خانہ اور اپنے پیاروں کی خاطر احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔کورونا کی پہلی لہر میں دنیا نے پاکستان کی حکمت عملی کو سراہا، ہمیں مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمت عملی اختیار کرنی ہے، 2 ماہ کے دوران کورونا مثبت کیسز اور اموات میں 4 گنا اضافہ ہوا۔ اسد عمر نے کہا کہ حالیہ دنوں میں کورونا سے اوسطاً 60 اموات ہو رہی ہیں، کورونا ایس او پیز پر پہلے کی طرح عملدرآمد نہیں ہورہا، ریسٹورنٹس اور شادی ہالز میں کھانے پر پابندی کا فیصلہ مشکل تھا، بندشوں سے تعلیمی اداروں کا نظام اور روزگار متاثر ہوا۔جن سیکٹرز کو بند کیا گیا ان کی ریلیف کیلئے جلد کام ہوگا، حفاظتی تدابیر پر عملدرآمد کا یکساں پیغام نہیں جارہا، پاکستان میں سیکڑوں ہیلتھ ورکرز کورونا سے متاثر ہوئے، جمہوریت کا نظام عوام کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام اس لیے نہیں ہوتا کہ عوام کی زندگی خطرے میں پڑے، جب لیڈر کہتے ہیں کہ جلسے سے وبا کا تعلق نہیں تو اس سے نقصان ہوتا ہے، عوام کی زندگیوں کے تحفظ کیلئے حکومت نے مشکل فیصلے کیے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی اجتماعات میں پابندی پر عملدرآمد نہیں ہورہا ہے ، جب لیڈر کہتے ہیں کہ جلسے سے وبا کا تعلق نہیں تو اس سے نقصان ہوتا ہے۔ پہلی لہر کے مقابلہ میں کورونا کی دوسری لہر میں پیغام یکساں نہیں جا رہا۔ انہوں نے کہاکہ 12 اکتوبر کو کورونا کیسز 2 فیصد تھے لیکن اب یہ شرح 4 فیصد ہے۔ کورونا کے معاملے میں عالمی سطح پر دنیا پاکستان کی مثالیں دے رہی ہے لیکن اب دوسری لہر میں ہماری سیاسی لیڈر شپ ناپختگی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ مزید برآں وفاقی وزیر نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ پی ڈی ایم والے ہماری نہیں سنتے تو اعتزاز احسن کی ہی سن لیں کہ وہ کیا تجویز دے رہے ہیں۔ اعتزاز احسن، ڈاکٹرز، علماء، میڈیا اور ہر زی شعور انسان کا پیغام ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لئے احتیاط کریں۔انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں مریضوں کا اضافہ ہو رہا ہے اور اموات بڑھ رہی ہیں ۔ایسی صورت میں اپنی اور اپنے پیاروں کی خاطر احتیاط کریں۔








