کورونا ویکسین کو سٹور کرنے کے لیے منفی 70 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے کم کی ضرورت ہوگی،فائزر اور بائیو این ٹیک فارما

واشنگٹن۔18نومبر (اے پی پی):امریکا کی فائزر اور جرمنی کی بائیو این ٹیک فارماسیوٹیکلز دنیا کی سب سے پہلی کمپنیاں ہیں جنہوں نے اپنی کورونا ویکسین کے انسانی ٹرائل کے تیسرے اور آخری مرحلے کے ابتدائی نتائج جاری کرتے ہوئے اسے بیماری سے تحفظ کے لیے 90 فیصد سے زیادہ موثر قرار دیا ہے تاہم کہا ہے کہ اس ویکسین کو سٹور کرنے کے لیے منفی 70 ڈگری سینٹی گریڈ یا …

واشنگٹن۔18نومبر (اے پی پی):امریکا کی فائزر اور جرمنی کی بائیو این ٹیک فارماسیوٹیکلز دنیا کی سب سے پہلی کمپنیاں ہیں جنہوں نے اپنی کورونا ویکسین کے انسانی ٹرائل کے تیسرے اور آخری مرحلے کے ابتدائی نتائج جاری کرتے ہوئے اسے بیماری سے تحفظ کے لیے 90 فیصد سے زیادہ موثر قرار دیا ہے تاہم کہا ہے کہ اس ویکسین کو سٹور کرنے کے لیے منفی 70 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے کم کی ضرورت ہوگی۔این پی آر کی رپورٹ کے مطابق فائزر کی جانب سے 2021 تک محدود تعداد (ایک ارب 30 کروڑ) میں ہی ویکسین کے ڈوز تیار کیے جائیں گے، اور ایک فرد کو 21 دن دوران کے دوران 2 ڈوز استعمال کرائے جائیں گے۔یعنی ایک ارب 30 کروڑ ڈوز صرف 65 کروڑ افراد ہی استعمال کرسکیں گے، جبکہ کمپنی کی 80 فیصد سپلائی پہلے ہی امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا اور جاپان خرید لیے ہیں،دنیا کے باقی ممالک بالخصوص غریب ملکوں کے لیے ویکسین کا حصول بہت مشکل ہوگا۔حتمی نتائج میں بتایا گیا کہ یہ ویکسین بیماری کی روک تھام میں 95 فیصد تک موثر ہے۔گزشتہ ہفتے دونوں کمپنیوں نے تیسرے مرحلے کے ابتدائی نتائج میں کہا تھا کہ اس کی افادیت کی شرح 90 فیصد سے زیادہ ہے، جسے سائنسدانوں نے توقعات سے زیادہ قرار دیا تھا۔ایک اور امریکی کمپنی جو فائزر ویکسین جیسی جینیاتی ٹیکنالوجی پر مبنی ویکسین استعمال کررہی ہے، نے رواں ہفتے اپنے ابتدائی نتائج میں بتایا تھا کہ اس کی ویکسین بیمااری سے تحفظ کے لیے 94.5 فیصد موثر ہے۔روس کی ویکسین کے ابتدائی نتائج گزشتہ ہفتے جاری ہوئے تھے جس میں اسے بیماری کے تحفظ کے لیے 92 فیصد مور قرار دیا گیا۔امریکی اور جرمن کمپنیوں نے دنیا میں پہلی بار تجرباتی کورونا ویکسین کے آخری مرحلے کے حتمی نتائج جاری کیے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ توقع ہے کہ رواں سال ہی 5 کروڑ ڈوز تیار کرلیے جائیں گے۔خیال رہے کہ یہ ویکسین 2 ڈوز کے ذریعے استعمال کرائی جائے گی تو 5 کروڑ ڈوز ڈھائی کروڑ افراد کے لیے ہوں گے جبکہ اگلے سال یہ کمپنیاں ایک ارب 30 کروڑ ڈوز تیار کرنے کے لیے پرامید ہیں۔عالمی ادارہ صحت اور دیگر ریگولیٹرز نے کم از کم 50 فیصد افادیت والی کورونا ویکسینز کو موثر قرار دیا ہے، مگر ویکسینز کے حالیہ نتائج توقعات سے کافی زیادہ ہیں۔فائزر نے بتایا کہ مختلف عمروں، جنس اور اقلیتی گروپس میں اس کی ویکسین کی افادیت کا تسلسل یکساں رہا۔پنسٹھ سال سے زائد عمر کے افراد جو اس بیماری کی سنگین شدت کے سب سے زیادہ خطرے کی زد میں ہیں، ان میں ویکسین سے ملنے والا تحفظ 94 فیصد رہا۔اس ٹرائل میں 43 ہزار افراد شامل تھے اور 170 میں کورونا کی تشخیص ہوئی، جن میں سے 162 پلیسبو گروپ سے تعلق رکھتے تھے،انہوں نے کہا کہ تحقیق میں لوگوں کے تحفظ کے حوال سے کوئی نمایاں خدشات سامنے نہیں آئے، 8 ہزار افراد میں سائیڈ ایفیکٹس دیکھے گئے، مگر تھکاوٹ اور سردرد ہی سب سے زیادہ سنگین اثرات تھے۔خیال رہے کہ امریکی حکومت پہلے ہی ایک ارب 95 ارب ڈالرز کے عوض اس ویکسین کے 10 کروڑ ڈوز خرید چکی ہے جبکہ مزید 50 کروڑ ڈوز بھی خریدنے والی ہے۔زیادہ گرم موسم، دور دراز علاقوں تک آبادیاں، بہت زیادہ ٹھنڈک فراہم کرنے والے فریزرز کی کمی اور ویکسین کی محدود دستیابی کے باعث بیشتر ایشیائی ممالک اور ترقی پذیر اقوام کووڈ 19 کی وبا کی جلد روک تھام کے حوالے سے فائزر کی تجرباتی ویکسین پر انحصار نہیں کرسکتے۔