اسلام آباد ۔ 08مئی (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کووڈ۔ 19 سے نمٹنے کیلئے ہمیں عالمی سطح پر مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ہماری برآمدات 41 فیصد تک کم ہو چکی ہیں ، ہمارا معاشی خسارہ جی ڈی پی کا 10 فیصد تک جانے کا خدشہ ہے۔ وہ جمعہ کوتھاٹ لیڈرز۔ڈیجیٹل اجلاس سے خطاب سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر خارجہ …
کووڈ۔ 19 سے نمٹنے کیلئے عالمی سطح پر مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے کی ضرورت ہے، وبا کے باعث پاکستان کی برآمدات41 فیصد تک کم ہو چکیں، معاشی خسارہ جی ڈی پی کا 10 فیصد تک جانے کا خدشہ ہے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا تھاٹ لیڈرز۔ڈیجیٹل اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 08مئی (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کووڈ۔ 19 سے نمٹنے کیلئے ہمیں عالمی سطح پر مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ہماری برآمدات 41 فیصد تک کم ہو چکی ہیں ، ہمارا معاشی خسارہ جی ڈی پی کا 10 فیصد تک جانے کا خدشہ ہے۔ وہ جمعہ کوتھاٹ لیڈرز۔ڈیجیٹل اجلاس سے خطاب سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر خارجہ نے اجلاس کے تمام شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ کووڈ۔ 19 ایک غیر معمولی عالمی چیلنج ہے جس سے نمٹنے کیلئے ہمیں عالمی سطح پر مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔پاکستان میں اب تک 24073 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 564 افراد اس وبا کی وجہ سے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا نظام صحت دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح اس قدر توانا نہیں ہے جسے بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔ہم نے8 بلین ڈالر کی رقم اس وبا کے معاشی مضمرات سے نمٹنے کیلئے مختص کی ہے ۔ ہم احساس پروگرام کے تحت 144ارب روپے کی رقم 12 ملین غرباء میں تقسیم کر رہے ہیں جبکہ 75 ارب مالیت کا پیکج ، ان دیہاڑی دار مزدوروں کی مدد کیلئے مختص کیا گیا ہے جن کا روزگار لاک ڈاؤن کی وجہ سے ختم ہو چکا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہماری برآمدات41 فیصد تک کم ہو چکی ہیں ہمارا معاشی خسارہ جی ڈی پی کا 10 فیصد تک جانے کا خدشہ ہے ۔اسی تناظر میں وزیر اعظم عمران خان نے عالمی برادری کو پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو سہارا دینے کیلئے ”گلوبل ڈیٹ ریلیف” کی تجویز دی تاکہ یہ رقم کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے استعمال میں لائی جا سکے اور ان وسائل کو بروئے کار لا کر قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے ۔جی۔20 فورم نے اقتصادی معاونت کا اعلان کیا جو کہ خوش آئند اقدام ہے مگر یہ ہمارے چیلنجز کے پیش نظر ناکافی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ میں اس سلسلے میں تبادلہ ء خیال کے ذریعے آپ جیسے عالمی ماہرین کی آراء سے استفادہ کا خواہاں تھا۔ پاکستان اگلی سارک کانفرنس کی میزبانی کیلئے تیاریوں میں تھا لیکن مقبوضہ جموں و کشمیر میں5 اگست کے بھارتی اقدامات نے ساری صورتحال کو بدل کر رکھ دیا ہے تاہم بھارت کے رویے کے باوجود جب کورونا کے حوالے سے ہندوستان نے سارک وڈیو کانفرنس برائے کورونا کی دعوت دی تو ہم نے شرکت کا فیصلہ کیا اور اس عالمی وبائی چیلنج کو پیش نظر رکھتے ہوئے، خطے کے مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے اس میں شریک ہوئے۔ پاکستان نے وڈیو لنک کے ذریعے سارک وزرائے صحت کانفرنس کا انعقاد بھی کیا۔لیکن پاکستان کے مثبت رویے کے باوجود بدقسمتی سے بھارت کے رویے میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔







