اسلام آباد۔6دسمبر (اے پی پی):کووڈ 19 کی عالمی وبا نے دولت اور صحت کے نئے نئے ناطوں کومنکشف کیا ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اس حوالہ سے اپنی تحقیقی رپورٹ میں کہا ہے کہ کووڈ 19 کی وجہ سے غریب مشکل میں مبتلا ہیں تاہم بیماری کی تشخیص کےلئے کئےجانے والے ٹیسٹوں میں اضافہ کے ذریعے وبا کے پھیلا پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے …
کووڈ 19 کی عالمی وبا نے دولت اور صحت کے نئے نئے ناطوں کومنکشف کیا ، آئی ایم ایف

مزید خبریں
اسلام آباد۔6دسمبر (اے پی پی):کووڈ 19 کی عالمی وبا نے دولت اور صحت کے نئے نئے ناطوں کومنکشف کیا ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اس حوالہ سے اپنی تحقیقی رپورٹ میں کہا ہے کہ کووڈ 19 کی وجہ سے غریب مشکل میں مبتلا ہیں تاہم بیماری کی تشخیص کےلئے کئےجانے والے ٹیسٹوں میں اضافہ کے ذریعے وبا کے پھیلا پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امیر ممالک کے مقابلہ میں غریب ممالک میں کورونا وائرس سے زیادہ افراد متاثر ہورہے ہیں جبکہ اموات بھی زیادہ ہیں آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ حالیہ عالمی وبا سے پتہ چلا ہے کہ وسائل کی دستیابی بیماری سے تحفظ میں اہم ہے۔ عالمی ادارے نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا سے دولت اور صحت کے نئے نئے کنکشنز اور ناطوں کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ دولت کی کمی یا غربت انسانی صحت کو کیسے متاثر کرتی ہے۔ دولت مند اور وسائل کے حامل ممالک نے وبا کے پھیلائو کو روکنے، اس کے علاج اورتحفظ کےلئے کھربوں ڈالر مالیت کے منصوبوں کا آغاز کردیا جن کے اثرات سامنے آ رہےہیں تاہم غریب اور کم آمدنی والے ممالک ابھی تک بیماری کی تشخیص جیسے بنیادی مسائل میں الجھے ہیں۔ اسی طرح بیماری سے تحفظ کی ویکسین سے بھی امیر ممالک جلد مستفید ہوں گے جبکہ غریب ملکوں کو ابھی مزید انتظار کرنا ہوگا ۔ آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ کورونا سے تحفظ کےلئے لاک ڈائونز ، سماجی فاصلہ اور ماسک پہننا اگر ضروری ہے تو دوسری طرف مرض کی سستی اور تیز ترین تشخیص بھی اس کے پھیلائو کو روکنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔








