اسلام آباد۔20دسمبر (اے پی پی):کوہسار کمپلیکس کو صاف، سرسبز اور سموگ فری سرکاری عمارت میں تبدیل کرنے کا جامع منصوبہ پیش کر دیا گیا ہے، جس میں صفائی کے موثر انتظامات، بہتر پارکنگ مینجمنٹ اور ملازمین و سائلین کے لیے صحت مند ماحول کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ یہ منصوبہ وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں زیرِ …
کوہسار کمپلیکس کو صاف، سرسبز اور سموگ فری بنانے کا جامع منصوبہ پیش

مزید خبریں
اسلام آباد۔20دسمبر (اے پی پی):کوہسار کمپلیکس کو صاف، سرسبز اور سموگ فری سرکاری عمارت میں تبدیل کرنے کا جامع منصوبہ پیش کر دیا گیا ہے، جس میں صفائی کے موثر انتظامات، بہتر پارکنگ مینجمنٹ اور ملازمین و سائلین کے لیے صحت مند ماحول کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ یہ منصوبہ وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں زیرِ غور آیا، جو جولائی کے پہلے ہفتے میں منعقد ہونے والے سابقہ اجلاس کا تسلسل تھا۔اس ابتدائی اجلاس میں کوہسار کمپلیکس کی فوری مرمت اور دیکھ بھال کی ضروریات پر غور کیا گیا ۔اجلاس میں کوہسار کمپلیکس میں قائم مختلف وزارتوں کے سیکرٹریز، جوائنٹ سیکرٹریز اور نمائندوں نے شرکت کی۔
شرکانے صفائی کی صورتحال، پارکنگ کے ناقص انتظامات، ٹریفک جام، لفٹس کی بار بار خرابی اور بنیادی سہولیات کی کمی، بشمول کیفیٹیریا یا کافی شاپ کی عدم دستیابی، جیسے مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔اجلاس میں پارکنگ ایریا میں توسیع کی تجاویز بھی زیرِ غور آئیں، تاہم اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ کسی بھی توسیعی منصوبے سے قبل دستیاب جگہ کے موثر اور منظم استعمال کو یقینی بنایا جائے۔ وفاقی وزیر محمد جنید انوار چوہدری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوہسار کمپلیکس کو صاف، منظم اور ماحول دوست بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مشترکہ اور مربوط کوششیں کرنا ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ عمارت عوام کے لیے حکومتی نظم و نسق کی عکاس ہے، جہاں نظم و ضبط، پیشہ ورانہ طرزِ عمل اور موثر انتظامات نمایاں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کمپلیکس کو کلائمیٹ ریزیلینٹ اور مزید سرسبز بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا جو حکومت کے پائیدار ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔وزارتِ بحری امور کے سیکرٹری سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ کوہسار کمپلیکس کو درپیش بیشتر مسائل مشترکہ نوعیت کے ہیں، جن کا حل اجتماعی اقدامات اور باہمی رابطہ کاری سے ممکن ہے۔ انہوں نے مستقل کوآرڈینیشن اور مشترکہ ذمہ داری پر زور دیا تاکہ دیکھ بھال اور انتظامی معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
وزارتِ بین الصوبائی رابطہ کے سیکرٹری محی الدین احمد وانی نے وزارتوں کے درمیان ذمہ داریوں کی واضح تقسیم کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ہر وزارت کو مخصوص فرائض سونپے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی وزارت مجموعی صفائی کی ذمہ داری لینے کے لیے تیار ہے، جبکہ مجوزہ منصوبے کے تحت اخراجات تمام وزارتیں مشترکہ طور پر برداشت کریں ۔ انہوں نے کہا کہ صفائی اور دیکھ بھال کے امور کو ضرورت کے جائزے کے بعد آؤٹ سورس بھی کیا جا سکتا ہے۔اجلاس میں پارکنگ کے مسائل پر خصوصی توجہ دی گئی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گاڑیوں کی غیر منظم آمد و رفت ملازمین، سائلین اور مہمانوں کے لیے مشکلات کا باعث بن رہی ہے، جس کے تدارک کے لیے فوری انتظامی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کمپلیکس میں موثر ٹریفک مینجمنٹ سسٹم متعارف کرانے کی بھی ہدایت کی تاکہ نظم و ضبط بہتر ہو، ٹریفک کا دباؤ کم کیا جا سکے اور سکیورٹی کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ طے شدہ فیصلوں پر واضح ٹائم لائنز کے تحت عمل درآمد کیا جائے گا، تاکہ کوہسار کمپلیکس کی روزمرہ کارکردگی بہتر بنائی جا سکے اور سرکاری ملازمین و عوام کے لیے ایک فعال، منظم اور خوشگوار ماحول فراہم کیا جا سکے۔








