اسلام آباد۔23نومبر (اے پی پی):پاکستان اکانومی واچ کے چئیرمین بریگیڈیئر (ر) محمد اسلم خان نے کہا ہے کہ سالانہ کھربوں روپے کا نقصان کرنے والے سرکاری اداروں کی تنظیم نو کا فیصلہ خوش آئند ہے، کامیابی کی صورت میں حکومت پر سے کئی سو ارب روپے کا بوجھ کم ہو جائے گا جو ملکی ترقی کے لئے ضروری ہے۔اخراجات اور آمدنی میں عدم توازن ختم کئے بغیر ملک اپنے پیروں …
کھربوں روپے کا نقصان کرنے والے اداروں کی تنظیم نو کا فیصلہ خوش آئند ہے،پاکستان اکانومی واچ

مزید خبریں
اسلام آباد۔23نومبر (اے پی پی):پاکستان اکانومی واچ کے چئیرمین بریگیڈیئر (ر) محمد اسلم خان نے کہا ہے کہ سالانہ کھربوں روپے کا نقصان کرنے والے سرکاری اداروں کی تنظیم نو کا فیصلہ خوش آئند ہے، کامیابی کی صورت میں حکومت پر سے کئی سو ارب روپے کا بوجھ کم ہو جائے گا جو ملکی ترقی کے لئے ضروری ہے۔اخراجات اور آمدنی میں عدم توازن ختم کئے بغیر ملک اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہو سکتا۔ محمد اسلم خان نے پیر کو یہاں جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ناکام کمپنیوں پر ملکی دفاع سے زیادہ اخراجات اٹھتے ہیں اور انھیں مصنوعی طور پر زندہ رکھنے کے لئے حکومت کو اربوں ڈالر کے قرضے لینا پڑتے ہیں جو پاکستان جیسے ملک کے ساتھ ظلم ہے۔ گزشتہ چالیس سال میں تمام حکومتوں نے پی آئی اے، سٹیل ملز، ریلوے اور ایسے دیگر اداروں کو منافع بخش بنانے یا ان سے جان چھڑانے کی کوشش کی جو کامیاب نہیں ہو سکی۔ چند اداروں کی نجکاری کامیاب رہی جبکہ زیادہ تر ناکام رہیں اور انکی صورتحال مزید بگڑ گئی۔ اب وزیر اعظم عمران خان نے ان اداروں کی تنظیم نو کرتے ہوئے انھیں مختلف حصوں میں تقسیم کرنے اور ان میں میرٹ کی بنیادی پر اعلیٰ افسران کی تعیناتی کا فیصلہ کیا ہے جو خوش آئند ہے۔








