کھیلوں کی دنیا میں ڈوپنگ کے خلاف نئے اور سخت قوانین کا اعلان، یکم جنوری 2026 سے لاگو ہوں گے خرم شہزاد

مونٹریال۔2جنوری (اے پی پی):عالمی کھیلوں کے میدانوں کو منشیات اور ناجائز ذرائع سے پاک رکھنے کے لیے ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) نے سال 2026 کی نئی ممنوعہ فہرست جاری کر دی ہے۔ یہ نئی فہرست محض چند ادویات کی تبدیلی نہیں بلکہ کھلاڑیوں کی جسمانی کارکردگی کو مصنوعی طریقوں سے بڑھانے کے خلاف ایک نئے "اعلانِ جنگ" کی حیثیت رکھتی ہے۔ بین الاقوامی ٹیسٹنگ ایجنسی (آئی ٹی اے) کے …

مونٹریال۔2جنوری (اے پی پی):عالمی کھیلوں کے میدانوں کو منشیات اور ناجائز ذرائع سے پاک رکھنے کے لیے ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) نے سال 2026 کی نئی ممنوعہ فہرست جاری کر دی ہے۔ یہ نئی فہرست محض چند ادویات کی تبدیلی نہیں بلکہ کھلاڑیوں کی جسمانی کارکردگی کو مصنوعی طریقوں سے بڑھانے کے خلاف ایک نئے "اعلانِ جنگ” کی حیثیت رکھتی ہے۔

بین الاقوامی ٹیسٹنگ ایجنسی (آئی ٹی اے) کے سینئر منیجر ڈاکٹر مارک اسٹیورٹ نے خبردار کیا ہے کہ جدید ترین طبی ٹیکنالوجی کے ذریعے کی جانے والی ڈوپنگ کو اب پکڑنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان اور اس کے قوانین پہلے سے کہیں زیادہ سخت کر دیئے گئے ہیں۔اگرچہ سال 2025 کی فہرست میں زیادہ توجہ بیرونی ادویات پر تھی، لیکن 2026 کی فہرست میں انسانی جسم کے خلیاتی نظام پر ہونے والی تبدیلیوں کو بھی گرفت میں لایا گیا ہے۔ ڈاکٹر مارک اسٹیورٹ نے واضح کیا کہ اب صرف ادویات ہی نہیں، بلکہ خلیوں کے اندر موجود اجزاء جیسے مائٹوکونڈریا کا استعمال اور کاربن مونو آکسائیڈجیسی گیسوں کا سہارا لینا بھی کھلاڑی کو تاحیات پابندی کا شکار بنا سکتا ہے۔

سال 2025 تک توجہ زیادہ تر مکمل خلیات پر تھی، مگر اب خلیوں کے چھوٹے اجزاء کا استعمال بھی سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔پہلے خون نکالنے کے حوالے سے قوانین میں نرمی موجود تھی، مگر اب طبی ضرورت یا مستند مراکز میں خون عطیہ کرنے کے علاوہ جسم سے خون نکالنا "ممنوعہ طریقہ کار” میں شامل ہے۔مارکیٹ میں دستیاب فٹنس سپلیمنٹس میں موجود Flmodafinil جیسے نئے مادوں کو اب باقاعدہ ممنوعہ قرار دے دیا گیا ہے، جو پچھلے سال تک کئی کھلاڑیوں کے لیے ابہام کا باعث تھے۔

واڈا ممنوعہ اشیاء گائیڈائن میں تمام ایتھلیٹس اور اسپورٹس فیڈریشنز کو مطلع کیا گیا ہے کہ وہ یکم جنوری 2026 سے اپنی تمام ادویات اور تربیتی طریقوں کا ازسرِ نو جائزہ لیں۔ ڈاکٹر مارک اسٹیورٹ کے مطابق، "ناواقفیت کسی کھلاڑی کو سزا سے نہیں بچا سکتی”، لہٰذا جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں کھلاڑیوں کو اپنے کیریئر کے تحفظ کے لیے خود کو ان نئے قوانین کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔

مزید خبریں