کیمیائی کھادوں کا حد سے زیادہ استعمال زمین، پانی ،ماحول کیلئے سنگین خطرہ ہے، نجم مزاری

کیمیائی کھادوں کا حد سے زیادہ استعمال زمین، پانی ،ماحول کیلئے سنگین خطرہ ہے، نجم مزاری

اسلام آباد۔13ستمبر (اے پی پی):آرگینک زراعت اور مصنوعات پر تحقیق کرنے والے ایک نجی ادارے کے سربراہ نجم مزاری نے کہا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک بتدریج کیمیائی کھادوں کے غیر ضروری استعمال میں کمی کی جا رہی ہے، عالمی ادارے بھی متوازن غذائی انتظام اور ماحول دوست زرعی طریقوں کے فروغ کی سفارش کر رہے ہیں، ضرورت سے زیادہ کیمیائی کھادوں کا استعمال زمین کی صحت، آبی ذخائر، حیاتیاتی تنوع اور ماحول کیلئے سنگین مسائل پیدا کر رہا ہے۔اتوار کو جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کھادیں زرعی پیداوار کیلئے اہم ہیں تاہم فصل کی ضرورت سے زیادہ کھاد کا استعمال کسی صورت بھی مناسب نہیں، اس سے زمین میں غذائی اجزا کے توازن میں بیگاڑ، تیزابیت میں اضافہ اور مٹی کے قدرتی نظام کو نقصان پہنچنے کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔

عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق نائٹروجن کھاد کا بڑا حصہ فصلوں تک پہنچنے کے بجائے ماحول میں ضائع ہو جاتا ہے جو زمین، دریائوں اور آبی ذخائر کی آلودگی کا بھی سبب بنتا ہے۔نجم مزاری نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے مطابق ہر سال تقریباً 200 ملین ٹن ردعمل پذیر نائٹروجن ماحول میں خارج یا ضائع ہو جاتی ہے جبکہ اس کے نتیجے میں پانی کی آلودگی، کائی کی زہریلی افزائش، حیاتیاتی تنوع میں کمی اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ زرعی زمین پر نائٹروجن کے غیر ضروری استعمال سے نائٹرس آکسائیڈ سمیت گرین ہائوس گیسوں کے اخراج میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ بعض نائٹروجن کھادوں کےطویل عرصے تک استعمال سے زمین کی تیزابیت بھی بڑھ سکتی ہے۔

دنیا میں اب کھاد کے زیادہ استعمال پر توجہ نہیں دی جاتی بلکہ کھادوں کی درست مقدار، مناسب وقت اور فصل کی ضرورت کے مطابق استعمال کو اہمیت دی جا رہی ہے جس سے کسانوں کے اخراجات کم کرنے، زمین کی زرخیزی برقرار رکھنے اور ماحول کو محفوظ بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔نجم مزاری نے کہا کہ پاکستان میں بھی متوازن غذائی انتظام، نامیاتی مادے کے استعمال، جدید زرعی تحقیق اور ماحول دوست طریقہ ہائے کاشت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ کے ساتھ ساتھ زمین کی صحت اور آئندہ نسلوں کے غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

مزید خبریں