کے پی پریویلیجز امینڈمنٹ بل قانون سے ماوراء اور مغل شاہی دور کی یادگار ہے، اختیار ولی خان کی پریس کانفرنس

اختیار ولی خان کی خیبر پختونخوا اسمبلی کے ’’پاورز، امینیٹیز اینڈ پریویلیجز امینڈمنٹ بل‘‘ پر شدید تنقید، بل کو قانون سے ماوراء قرار دے دیا

اسلام آباد۔8جولائی (اے پی پی):وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات و امور خیبر پختونخوا اختیار ولی خان نے خیبر پختونخوا اسمبلی سے حالیہ پاس ہونے والے’’ پاورز، امینیٹیز اینڈ پریویلیجز امینڈمنٹ بل‘‘ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے مغل بادشاہت سے بدتر اور قانون سے ماوراء قرار دے دیا ہے۔

اسلام آباد میں خاتون ایم این اے ڈاکٹر شائستہ جدون کے ہمراہ ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس متنازع بل کے ذریعے خیبر پختونخوا کے وزراء، مشیروں اور اراکین اسمبلی کو ایسے لامحدود اختیارات دے دیئے گئے ہیں جو تاریخ میں مغل بادشاہوں یا بہادر شاہ ظفر کے پاس بھی نہیں تھے۔ انہوں نے بتایا کہ بل کے تحت اراکین اسمبلی اور ان کے اہل خانہ (شریک حیات اور بچوں) کو تاحیات ’’بلیو پاسپورٹ‘‘ دینے کی منظوری دی گئی ہے جس کا واحد مقصد سیاسی پناہ لے کر ملک سے راہ فرار اختیار کرنا اور بیرونِ ملک بیٹھ کر ریاست کے خلاف پراپیگنڈا کرنا ہے۔لیگی رہنما نے بل کی شقوں پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب صوبائی اسمبلی کے کسی بھی رکن کو سپریم کورٹ، ہائی کورٹ یا کسی بھی سیشن کورٹ میں پیشی سے تاحیات استثنا دے دیا گیا ہے جبکہ سپیکر کی اجازت کے بغیر کوئی ادارہ انہیں گرفتار نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہلے اراکین کو صرف 2 اسلحہ لائسنسز کی اجازت تھی لیکن اب اس قانون کے تحت ایک رکن کو 8 کلاشنکوفوں کے لائسنس رکھنے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے جو صوبے میں اسلحہ کلچر، قبضہ مافیا اور سمگلرز کی سرپرستی کے مترادف ہے۔اختیار ولی خان نے پریس کانفرنس میں موجود صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس بل میں آزادی صحافت پر بھی شب خون مارا گیا ہے۔ قانون کے مطابق جب تک سپیکر خود کسی تحریک التواء یا سوال کو ٹیبل نہ کرے، کوئی صحافی یا نیوز چینل اس پر خبر، تبصرہ یا تجزیہ نشر نہیں کر سکتا۔ مزید برآں صوبائی حکومت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ناپسندیدہ صحافیوں اور میڈیا ہائوسز کی لسٹ تیار کرکے ان کا اسمبلی میں داخلہ بند کر سکے جو پی ٹی آئی کے آزادی اظہار رائے کے دعوئوں کا منہ چڑاتا ہے۔اختیار ولی خان نے خیبر پختونخوا کی ابتر صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ ایک طرف اراکین اسمبلی عیاشیاں کر رہے ہیں اور دوسری طرف صوبے کی 34 میں سے 18 سرکاری یونیورسٹیاں بندش کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں، گومل یونیورسٹی کولیپس ہو گئی ہے اور وائس چانسلر کو جبری رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔ پشاور کے تین تاریخی ہسپتالوں کے علاوہ 15 سالوں میں چوتھا ہسپتال نہیں بن سکا اور صحت کارڈ میں 80 فیصد کرپشن ہو رہی ہے۔انہوں نے مزید الزام لگایا کہ تیراہ کے متاثرین کی بحالی کے لیے مختص 4 ارب روپے میں سے 3 ارب روپے صوبائی حکومت کھا چکی ہے۔اختیار ولی خان نے وفاقی تحقیقاتی اداروں ’نیب‘ اور ’ایف آئی اے‘ سے مطالبہ کیا کہ وہ خیبر پختونخوا میں جاری غیر قانونی گولڈ مائننگ، کوئلے کی چوری اور فنڈز کی خورد برد پر فوری ایکشن لیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسلم لیگ (ن) اس ماورائے آئین قانون کو جوتے کی نوک پر رکھتی ہے اور اسے قومی اسمبلی اور قانونی چارہ جوئی کے ذریعے منسوخ کروا کے دم لے گی۔

مزید خبریں