فیصل آباد۔ 27 مئی (اے پی پی):الیچی ایک انتہائی اہم اور نقد آور فصل ہے جس کا پھل نہایت میٹھا اور لذیذ ہونے کے علاوہ عوام میں بے حد پسند کیا جاتا ہے تاہم اس کی نگہداشت کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور اسے معمول کے باغات اور پھلوں سے ہٹ کر کئی گنا زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے اسلئے موسم گرما کی شدت کے باعث باغبان الیچی …
گرمی کی شدت کے باعث الیچی کے درختوں پر دن میں 2مرتبہ پھوار برسانے کامشورہ

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 27 مئی (اے پی پی):الیچی ایک انتہائی اہم اور نقد آور فصل ہے جس کا پھل نہایت میٹھا اور لذیذ ہونے کے علاوہ عوام میں بے حد پسند کیا جاتا ہے تاہم اس کی نگہداشت کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور اسے معمول کے باغات اور پھلوں سے ہٹ کر کئی گنا زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے اسلئے موسم گرما کی شدت کے باعث باغبان الیچی کی بہتر پیداوار کے حصول کیلئے پانی کی کمی نہ آنے دیں اور اگر بارشیں نہ ہوں تو درختوں پر دن میں کم از کم 2مرتبہ مصنوعی بارش (پانی کی پھوار) برسانے کا اہتمام کریں تاکہ الیچی کے پودوں کی پانی کی ضرورت کو پورا کیا جا سکے۔
جامعہ زرعیہ فیصل آبادکے ماہرین اثمارنے بتا یا کہ الیچی کا پھل زیادہ تر جنوبی پنجاب کے گرم علاقوں میں بہتر انداز میں نشو ونما پاتا ہے جس کو ٹہنی کے ساتھ قلم کیا جاتا ہے۔انہوں نے بتا یا کہ اگر الیچی کی زیادہ سے زیادہ کاشت کیلئے اقدامات کئے جائیں تو اس نقد آور پھل کو برآمد کر کے قیمتی زر مبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ امر بھی دلچسپی کا حامل ہے کہ اگرچہ الیچی کا پھل گرم تاثیر رکھتا ہے لیکن اس کے باوجود اسے گرمیوں میں بہت پسند کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ الیچی کی 4 اقسام گولا، کلکتی، بے دانہ، بمبے کم کاشت ہونے کے باعث مہنگے داموں فروخت ہوتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ الیچی کا ایک درخت اوسطاً 2سے 4من پھل کی پیداوار دیتا ہے جو مارکیٹ میں 350سے 500روپے فی کلو فروخت ہوتا ہے اس طرح ایک ایکڑ سے باغبان کم از کم3لاکھ روپیہ آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں مزید معلومات کیلئے ماہرین زراعت یا محکمہ زراعت کے فیلڈ سٹاف سے بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔








