سٹاک ہوم۔18جنوری (اے پی پی):گرین لینڈ کے معاملے نے امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان تجارتی تنازع کھڑا کر دیا ہے اور یورپ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے متعدد یورپی ملکوں پر ٹیرف لگانے پر جوابی اقدامات کی وارننگ دے دی ہے۔ العربیہ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا متعدد یورپی ملکوں پر کسٹم ڈیوٹی لگائے گا۔ انہوں نے اس …
گرین لینڈ کے باعث تجارتی تنازع، یورپ کی امریکا کو جوابی اقدامات کی وارننگ

مزید خبریں
سٹاک ہوم۔18جنوری (اے پی پی):گرین لینڈ کے معاملے نے امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان تجارتی تنازع کھڑا کر دیا ہے اور یورپ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے متعدد یورپی ملکوں پر ٹیرف لگانے پر جوابی اقدامات کی وارننگ دے دی ہے۔ العربیہ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا متعدد یورپی ملکوں پر کسٹم ڈیوٹی لگائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدامات گرین لینڈ کی خریداری کا معاہدہ طے پانے تک جاری رہیں گے، اس خریداری کی وجہ انہوں نے امریکی اور عالمی قومی سلامتی کو درپیش خطرات بتائے۔
ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ واشنگٹن نے ڈنمارک، تمام یورپی یونین اور دیگر ملکوں کی کئی سالوں تک ڈیوٹی یا معاوضے کی کسی بھی شکل کے بغیر حمایت کی ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ وہ اس کا بدلہ چکائیں کیونکہ عالمی امن داؤ پر ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ یکم فروری 2026 سے مذکورہ ملکوں سے امریکا آنے والی تمام اشیاء پر 10 فیصد کسٹم ڈیوٹی لگائی جائے گی جسے یکم جون 2026 سے بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ ڈیوٹی اس وقت تک نافذ رہے گی جب تک گرین لینڈ کی مکمل خریداری کا معاہدہ نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ امریکا 150 سال سے زائد عرصے سے گرین لینڈ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور جدید دفاعی نظام ’’ گولڈن ڈوم ‘‘ کی وجہ سے اس کی ضرورت انتہائی ناگزیر ہو چکی ہے۔
انہوں نے ڈنمارک یا کسی بھی متعلقہ ملک کے ساتھ فوری مذاکرات کے لیے واشنگٹن کے آمادہ ہونے کا بھی بتایا۔دوسری جانب سویڈن کے وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک دھونس میں نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ سٹاک ہوم نے کسی بھی قسم کے معاشی یا سیاسی دباؤ کو مسترد کر دیا ہے۔ جرمن حکومت نے بھی اعلان کیا کہ وہ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ ڈیوٹی کے اثرات پر بات چیت کے لیے یورپی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ جرمن حکومت نے زور دیا کہ وہ مشترکہ یورپی ہم آہنگی کے فریم ورک کے تحت ان اقدامات کے جواب میں مناسب فیصلہ کرے گی۔
اسی تناظر میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے امریکی صدر کی دھمکیوں کے جواب میں کہا کہ کوئی بھی ڈراوا یا دھمکی ہمیں متاثر نہیں کر سکتی، نہ یوکرین میں، نہ گرین لینڈ میں اور نہ ہی دنیا کے کسی اور حصے میں۔ انہوں نے ٹیرف لگانے کی دھمکیوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی تصدیق ہو گئی تو یورپی ممالک متحد ہوکر مربوط طریقے سے جواب دیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یورپ اپنی خودمختاری کا احترام کروانا جانتا ہے اور اس سلسلے میں وہ یورپی شراکت داروں سے بات چیت کریں گے۔








