عالمی بینک نے کہاہے کہ گزشتہ تین دہائیوں میں عالمی تجارت کی رفتار میں نمایاں کمی آئی ہے ۔
گزشتہ تین دہائیوں میں عالمی تجارت کی رفتار میں نمایاں کمی آئی ، عالمی بینک
اسلام آباد۔13اپریل (اے پی پی):عالمی بینک نے کہاہے کہ گزشتہ تین دہائیوں میں عالمی تجارت کی رفتار میں نمایاں کمی آئی ہے ۔ یہ بات عالمی بینک کی ایک حالیہ تحقیق میں کہی گئی ہے۔ یہ تحقیقی رپورٹ عالمی بینک کے ماہرین نے مرتب کی ہے، رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 2020 کی دہائی میں عالمی تجارت کو مسلسل بڑے جھٹکوں کا سامنا رہا ہے جن میں کورونا وائرس کی عالمگیر وبا، سپلائی چین کی رکاوٹیں، بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگیاں، جغرافیائی تنازعات اور پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ طویل المدتی ڈھانچہ جاتی تبدیلیاں بھی عالمی تجارت کے انداز کو تبدیل کر رہی ہیں تاہم ان چیلنجز کے باوجود مصنوعی ذہانت سے متعلق تجارت میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین دہائیوں میں عالمی تجارت کی رفتار نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔1990 کی دہائی میں عالمی تجارت کی سالانہ شرح نمو تقریباً 6 فیصد تھی، 2010 کی دہائی میں یہ کم ہو کر تقریباً 5 فیصد رہ گئی،جبکہ 2020 کی دہائی میں یہ مزید گھٹ کر 3 فیصد سے بھی کم ہو گئی ہے، جو گزشتہ چالیس سال کی سست ترین رفتار ہے۔
ماہرین کے مطابق اس سست روی کی بنیادی وجوہات میں سرمایہ کاری میں کمی،عالمی ویلیو چینز سے متعلق مسائل،بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگیاں اوراور کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے دوران عالمی کساد بازاری شامل ہیں تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ اشیاء کی تجارت میں کمی کے برعکس خدمات کی تجارت میں تیزی سے اضافہ ہواہے اور2005 سے 2023 کے درمیان خدمات کی تجارت کی مالیت تین گنا سے زیادہ ہو گئی، جس میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور آن لائن خدمات کا بڑا کردار ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2024 اور 2025 میں عالمی تجارت کی شرح نمو تقریباً 3.4 فیصد رہی، جو توقعات سے بہتر ثابت ہوئی۔ تاہم 2026 کے لیے عالمی ادارے عالمی تجارت کی شرح نمو 1.7 فیصد سے 3.1 فیصد کے درمیان بتا رہے ہیں، جو غیر یقینی صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات نے شپنگ روٹس کو متاثر کیا ہے، جس سے خاص طور پر توانائی اور کھاد جیسے اہم شعبوں میں نقل و حمل کے اخراجات اور سپلائی کے خطرات بڑھ گئے ہیں، رپورٹ کے مطابق عالمی تجارت میں ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر معیشتوں کا کرداربڑھ رہاہے ،1990 کی دہائی میں ان کا حصہ عالمی تجارت کی ترقی میں تقریباً 22 فیصدحصہ تھاجو اب یہ بڑھ کر 50 فیصد سے زیادہ ہو چکا ہے۔









