اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):وزیرِ مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے منگل کو سینیٹ کو آگاہ کیا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران پولیس حراست سے 19 قیدی فرار ہوئے، جن میں سے 15 کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔ وقفۂ سوالات کے دوران مختلف سوالات کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ غفلت اور معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پیز) کی خلاف ورزی پر 32 پولیس …
گزشتہ چار برسوں کے دوران پولیس حراست سے 19 قیدی فرار ہوئے، 15 کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ، وزیرِ مملکت برائے داخلہ کا سینیٹ میں جواب

مزید خبریں
اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):وزیرِ مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے منگل کو سینیٹ کو آگاہ کیا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران پولیس حراست سے 19 قیدی فرار ہوئے، جن میں سے 15 کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔
وقفۂ سوالات کے دوران مختلف سوالات کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ غفلت اور معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پیز) کی خلاف ورزی پر 32 پولیس اہلکاروں کے خلاف تادیبی اور فوجداری کارروائی کی گئی۔وزیرِ مملکت نے بتایا کہ چار قیدی تاحال مفرور ہیں تاہم ان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حراست کے انتظامات میں کوتاہی کے مرتکب 32 پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی، جن میں سے 17 افسران کو بڑی سزائیں دی گئیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس اہلکاروں کی غفلت کے باعث قیدیوں کے فرار کے واقعات پر 13 فوجداری مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔طلال چوہدری نے وضاحت کی کہ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ ملزمان کو عدالتوں میں پیش کرنے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے سے متعلق ایس او پیز پر عمل نہ کرنے کے باعث یہ واقعات پیش آئے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں بھی غفلت ثابت ہوئی، بغیر کسی امتیاز کے سخت کارروائی کی گئی۔
سینیٹر طلحہ محمود کے ضمنی سوال کے جواب میں وزیرِ مملکت نے واضح کیا کہ اسلام آباد میں غیر قانونی یا نجی حراست کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام گرفتار ملزمان کو قانون کے مطابق 24 گھنٹوں کے اندر عدالتوں میں پیش کیا جاتا ہے۔








