چین کے مطالبے پر بھارت نے ایل اے سی عبور کرنے والے اہلکاروں کو واپس بلایا اور تعمیر کردہ سہولیات مسمار کیں ۔ترجمان چینی وزارت خارجہ

اسلام آباد ۔ 20 جون (اے پی پی) چین نے کہا ہے کہ سرحدی علاقے گلوان میں بار بار بھارتی اشتعال انگیزی،لائن آف ایکچول کنٹرول اور کمانڈر سطح کے معاہدے کی خلاف ورزیوں کے علاوہ چینی افسران اور فوجیوں پر مشتمل مذاکراتی ٹیم پر حملے نے براہ راست تصادم کو جنم دیا جس کے نتیجہ میں ہلاکتیں ہوئیں۔ ہفتہ کوچینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے کہا کہ …

اسلام آباد ۔ 20 جون (اے پی پی) چین نے کہا ہے کہ سرحدی علاقے گلوان میں بار بار بھارتی اشتعال انگیزی،لائن آف ایکچول کنٹرول اور کمانڈر سطح کے معاہدے کی خلاف ورزیوں کے علاوہ چینی افسران اور فوجیوں پر مشتمل مذاکراتی ٹیم پر حملے نے براہ راست تصادم کو جنم دیا جس کے نتیجہ میں ہلاکتیں ہوئیں۔ ہفتہ کوچینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے کہا کہ چینی فوجی گزشتہ کئی سال سے چین ہندوستان سرحد کے مغربی حصے میں ایل اے سی کے چینی طرف واقع گلوان کے علاقے میں ڈیوٹی پر مامور اور گشت کرتے آ رہے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ اپریل سے ہندوستانی سرحدی فوجیوں نے وادی گلوان میں ایل اے سی پر یکطرفہ اور مستقل طور پر سڑکیں ، پل اور دیگر سہولیات تعمیر کیں۔ چین کی طرف سے متعدد مواقع پر یاد دہانیوں اور احتجاج کے باوجود بھارت نے ایل اے سی کو بھی عبور کیا اور اشتعال انگیزی جاری رکھی۔ ترجمان ژاؤ لی جیان نے کہا کہ 6 مئی کو ہندوستانی سرحدی دستوں نے ایل اے سی کو عبور کیا ، چین کی سرزمین میں داخل ہوئے، قلعہ بندی اور رکاوٹیں تعمیر کیں جس سے چینی سرحدی فوجی گشت کو روکا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت نے جان بوجھ کر یکطرفہ طور پر کنٹرول اور منیجمنٹ کے ”سٹیٹس کو” کو تبدیل کرنے کے لئے اشتعال انگیزی کی۔ ترجمان نے مزید نے کہا کہ چینی سرحدی دستوں کو زمینی صورتحال پر رد عمل ظاہر کرنے اور سرحدی علاقوں میں انتظامی اور کنٹرول کو مستحکم کرنے کے لئے ضروری اقدامات اٹھانے پر مجبور کیا گیا۔ انہوںنے کہا کہ چین اور بھارت کشیدگی کو کم کرنے کے لئے فوجی اور سفارتی چینلز کے ذریعے قریبی رابطے میں ہیں تاہم ترجمان نے کہا کہ چین کے سخت مطالبے کے جواب میں بھارت نے ایل اے سی عبور کرنے والے اہلکاروں کو واپس بلانے اور سہولیات مسمار کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور انہوں نے ایسا کیا بھی۔ ترجمان نے کہا کہ 6 جون کو سرحدی فوجیوں کا کمانڈر سطح کا اجلاس منعقد ہوا اور کشیدگی کو کم کرنے پر اتفاق کیا اور بھارت نے گشت اور سہولیات کی تعمیر کے لئے دریائے گلوان کو عبور نہ کرنے کا وعدہ کیا اور فیصلہ کیا گیا کہ دونوں فریقین بات چیت کے ذریعہ فوجیوں کی واپسی کے مرحلہ وار انخلاء کا فیصلہ کریں گے لیکن حیرت انگیز طور پر 15 جون کو بھارت کی فرنٹ لائن فوج نے کمانڈر سطح کے اجلاس میں طے پانے والے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک بار پھر جان بوجھ کر ایسے وقت میں اشتعال انگیزی کی غرض سے لائن آف ایکچول کنٹرول کو عبور کیا جب وادی گلوان میں صورتحال پہلے کی طرح معمول پر آرہی تھی۔ترجمان نے کہا کہ بھارتی فرنٹ لائن فوجیوں نے ان چینی افسران اور فوجیوں پر پرحملہ کیا جو مذاکرات کے لئے وہاں گئے تھے،بھادت کے اس طرز عمل سے براہ راست تصادم ہوا اور ہلاکتیں ہوئیں۔

مزید خبریں