گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس 2026 میں پاکستان کی پانچ درجہ بہتری خوش آئند ہے ، نورین بانو لہڑی

اسلام آباد۔18ستمبر (اے پی پی):قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں (این سی ایس ڈبلیو)کی چیئرپرسن نورین بانو لہڑی نے گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس 2026 میں پاکستان کی پانچ درجہ بہتری کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک حوصلہ افزا ء قومی کامیابی اور صنفی مساوات کے فروغ کے لئے جاری اجتماعی کاوشوں کا عکاس قرار دیا ہے۔ جمعہ کو جاری پریس ریلیز میں چیئرپرسن نورین بانو لہڑی نے کہا کہ پاکستان 2025 …

اسلام آباد۔18ستمبر (اے پی پی):قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں (این سی ایس ڈبلیو)کی چیئرپرسن نورین بانو لہڑی نے گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس 2026 میں پاکستان کی پانچ درجہ بہتری کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک حوصلہ افزا ء قومی کامیابی اور صنفی مساوات کے فروغ کے لئے جاری اجتماعی کاوشوں کا عکاس قرار دیا ہے۔

جمعہ کو جاری پریس ریلیز میں چیئرپرسن نورین بانو لہڑی نے کہا کہ پاکستان 2025 میں 148ویں پوزیشن سے بہتری حاصل کرتے ہوئے 2026 میں 143ویں پوزیشن پر آ گیا ہے جبکہ مجموعی صنفی مساوات کا سکور 56.7 فیصد سے بڑھ کر 59.5 فیصد ہو گیا ہے۔ تعلیمی حصول میں صنفی مساوات کی شرح 91.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے تاہم معاشی شمولیت اور مواقع کا شعبہ اب بھی ایسے اہم میدانوں میں شامل ہے جہاں مزید تیز رفتار اقدامات کی ضرورت ہے۔چیئرپرسن نے کہا کہ پاکستان کے لئے یہ ایک حوصلہ افزا ء موقع ہے اور اس پیشرفت کے پسِ پشت قیادت، عزم اور محنت کو سراہنے کا موقع بھی ہے۔

انہوں نے سابق قائم مقام چیئرپرسن این سی ایس ڈبلیو اُمِ لیلیٰ اظہر اور سابق سیکرٹری حمیرا ضیاء مفتی کی مخلصانہ کاوشوں اور خدمات کو سراہا جنہوں نے گزشتہ برس پاکستان بھر میں اور قومی و بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مؤثر شمولیت کے ذریعے صنفی مساوات کے ایجنڈے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کمیشن کے دیگر معزز اراکین اور پوری ٹیم کی کاوشوں کو بھی سراہا جنہوں نے اس عمل کو آگے بڑھایا۔گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس 2025 میں پاکستان کی کم ترین درجہ بندی کے بعد قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں نے صنفی اعتبار سے تفصیلی اعداد و شمار اور رپورٹنگ میں موجود خلا ء کی نشاندہی اور انہیں دور کرنے کے لئے فوری اور جامع اقدامات کا آغاز کیا۔اس مقصد کے لئے کمیشن نے نیشنل جینڈر ڈیٹا ٹاسک فورس تشکیل دی اور ہنگامی بنیادوں پر تمام صوبوں اور متعلقہ محکموں و اداروں کے تعاون سے ملک گیر ڈیٹا اکٹھا کرنے کی سرگرمی شروع کی۔

اس عمل میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹس، بیوروز آف اسٹیٹسٹکس، متعلقہ لائن ڈیپارٹمنٹس اور دیگر ڈیٹا فراہم کرنے والے اداروں کو شامل کیا گیا۔ وزارتِ انسانی حقوق اور اقوام متحدہ کے شراکت دار اداروں نے بھی اس عمل میں این سی ایس ڈبلیو کو تعاون اور معاونت فراہم کی۔پاکستان بھر سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو اکٹھا، مرتب، جائزہ لے کر معیاری بنایا گیا اور تجزیہ کیا گیا تاکہ صنفی مساوات سے متعلق قومی شواہد کی بنیاد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔اس عمل کے نتیجے میں حاصل ہونے والے ڈیٹا اور تجزیے کو قومی و صوبائی صنفی مساوات کی رپورٹنگ میں شامل کیا گیا، جس میں اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری جینڈر پیریٹی رپورٹ، صوبائی جینڈر پیریٹی رپورٹس اور صوبائی جینڈر فورمز شامل ہیں جبکہ یہ معلومات متعلقہ حکومتی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بھی شیئر کی گئیں۔

اس مربوط کاوش کے نتیجے میں صنفی بنیاد پر تفصیلی اعداد و شمار کی دستیابی، معیار بندی اور مؤثر انداز میں اجاگر کئے جانے کے عمل کو نمایاں طور پر تقویت ملی جس سے پاکستان میں صنفی مساوات پر پیش رفت کا جائزہ لینے اور مزید اقدامات کے متقاضی شعبوں کی نشاندہی کے لئے زیادہ مضبوط شواہد میسر آئے۔ چیئرپرسن نے خواتین کو بااختیار بنانے اور صنفی مساوات کے فروغ کے لئے حکومتِ پاکستان، وفاقی اور صوبائی اداروں کی مسلسل کاوشوں کو بھی سراہا۔نورین بانو لہڑی نے کہا کہ 2026 میں پانچ درجوں کی بہتری حوصلہ افزا ء ہے اور شواہد پر مبنی مسلسل کاوشوں کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔ قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں پاکستان کے جینڈر ڈیٹا ایکو سسٹم کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا تاکہ پیش رفت اور باقی رہ جانے والے خلا ءکی درست طور پر نشاندہی کی جاسکے۔

چیئرپرسن نے مزید کہا کہ یہ کامیابی پاکستان کے لئے ایک قومی اعزاز ہے اور این سی ایس ڈبلیو کو اس سفر میں اپنا کردار ادا کرنے پر فخر ہے۔ قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں کے لیے پانچ درجوں کی بہتری منزل نہیں بلکہ ایک بڑے عزم کا آغاز ہے، ہمارا ہدف یہ ہے کہ پاکستان کو مسلسل آگے لے جایا جائے، یہاں تک کہ صنفی مساوات کا اظہار صرف بین الاقوامی درجہ بندیوں میں ہی نہیں بلکہ پاکستان کی ہر عورت اور بچی کی روزمرہ زندگی میں بھی نظر آئے، ان کے مواقع، وقار، تحفظ، معاشی شمولیت، تعلیم، فیصلہ سازی اور قیادت میں۔

قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں صنفی بنیاد پر تفصیلی اعداد و شمار، شواہد پر مبنی پالیسی سازی، معاشی بااختیاری، تعلیم، سیاسی شمولیت، قیادت، قانونی تحفظ اور ادارہ جاتی احتساب کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھتے ہوئے حکومتِ پاکستان، پارلیمنٹ، صوبائی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، بین الاقوامی تنظیموں، اقوام متحدہ کے اداروں، سول سوسائٹی، تعلیمی و تحقیقی اداروں اور نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا۔ این سی ایس ڈبلیو پاکستان بھر میں اپنے شراکت داروں اور سٹیک ہولڈرز کے شانہ بشانہ، پاکستان کی ہر عورت اور ہر بچی کے لئے اس ذمہ داری کو آگے بڑھانے کے لئے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔