اسلام آباد۔16نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی عوام نے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے بیانیے کو مسترد کر دیا ہے، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے انتخابات میں اکثریت حاصل کی ہے، وزیراعظم عمران خان کی ولولہ انگیز قیادت میں خطے کے تمام ایشوز کو حل کر لیا جائے گا اور ان کے …
گلگت بلتستان عوام نے ن لیگ اور پی پی پی کو مسترد کر دیا،وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں تمام ایشوز کو حل کر لیا جائے گا ،وفاقی وزیر مواصلات

مزید خبریں
اسلام آباد۔16نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی عوام نے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے بیانیے کو مسترد کر دیا ہے، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے انتخابات میں اکثریت حاصل کی ہے، وزیراعظم عمران خان کی ولولہ انگیز قیادت میں خطے کے تمام ایشوز کو حل کر لیا جائے گا اور ان کے تمام آئینی حقوق پورے کریں گے، پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی منافقت کھل کر عوام کے سامنے آ گئی ہے، پی ڈی ایم جلسوں میں کچھ اور انتخابی مہم میں کچھ اور بیانیہ تھا، ایسے بیانیے کو عوام نے مسترد کر دیا، پہلے ہی جلسے میں گلگت بلتستان کے لوگوں کی وزیراعظم عمران خان کیلئے محبت دیکھ لی تھی۔ پیر کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں جماعتوں نے گلگت بلتستان میں حکومت کی لیکن انہوں نے خطے کے عوام کے معیار زندگی کو بدلنے کیلئے ترقیاتی منصوبوں اور اسکیموں کا اقدام نہیں اٹھایا۔ مراد سعید نے کہا کہ گلگت بلتستان انتخابات کا شفاف اور پرامن طریقے کے ساتھ انعقاد ہوا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ بلاول مجھ سے اتنے خوفزدہ ہیں، پارلیمنٹ میں جیسے ہی گفتگو شروع کرتا ہوں وہ چلے جاتے ہیں، بلاول بھٹو پرچی پڑھنے کے بجائے عوام میں جائیں اور حقیقت دیکھیں، بلاول بھٹو احتجاج جاری رکھیں میں بھی وہاں جشن منانے آ رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال آزاد جموں و کشمیر اور 2023ءمیں سندھ میں عوامی حکومت قائم کریں گے۔ مراد سعید نے کہا کہ ہم نے ہوم ورک کیا ہوا تھا اسلئے کامیابی کا یقین تھا، خیبرپختونخوا کی طرح گلگت بلتستان کے لوگوں کو ان کے آئینی حقوق دلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہے، تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بعد اسے باضابطہ طور پر عبوری صوبے کا درجہ دیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سے متعلق ہوم ورک کیا ہوا ہے اور باہمی مشاورت کے بعد وزیراعلیٰ بنائیں گے۔ عمران خان کی محبت دیکھ لی تھی، چند جلسوں کی مار ثابت ہوا، غریب اور غربت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔







