گلگت بلتستان کے عوام نے اپوزیشن اور نواز شریف کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے کوڑے دان میں پھینک دیا ہے، وفاقی وزیراطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کا پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد۔16نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام اور امیدواروں کو جمہوری عمل میں حصہ لینے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، اپوزیشن کی اعلیٰ سطحی قیادت ایک ماہ سے جو عوام کے اعصاب پر سوار تھے اور جی بی الیکشن کو ریفرنڈم کہہ رہے تھے گلگت بلتستان کے عوام نے ان کے اور نواز شریف کے بیانیے کو …

اسلام آباد۔16نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام اور امیدواروں کو جمہوری عمل میں حصہ لینے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، اپوزیشن کی اعلیٰ سطحی قیادت ایک ماہ سے جو عوام کے اعصاب پر سوار تھے اور جی بی الیکشن کو ریفرنڈم کہہ رہے تھے گلگت بلتستان کے عوام نے ان کے اور نواز شریف کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے کوڑے دان میں پھینک دیا ہے، گلگت بلتستان کے الیکشن کو شفاف اور غیر جانبدار بنانے کے لئے بھرپور کوشش کی، آئندہ انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لئے جلد قانون سازی کریں گے، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ناموس پر حملہ کرنے والا ہمارا اولین ترین دشمن ہے، وزیر اعظم عمران خان نے اس مسئلہ پر اقوام متحدہ سمیت مسلم ممالک کو خطوط لکھنے کے علاوہ جو موقف اختیار کیا اور جس طرح مسلم امہ کی ترجمانی کی اس کی ماضی میں کہیں مثال نہیں ملتی، کوئی بھی سیاسی جماعت ایسے مسئلے پر احتجاج کرنے والوں کو طاقت کے ذریعے منتشر نہیں کرسکتی، ان سے بات چیت کی کوشش کررہے ہیں، کس طرح عوامی مشکلات کو دور کرنا ہے اس ضمن میں وزارت داخلہ بہت جلد اعلامیہ جاری کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ جی بی میں اپوزیشن کے امیدوار خود کہہ رہے ہیں کہ انتخابات شفاف ہوئے ، پاکستان پیپلز پارٹی بھی پہلے نتائج کو غلط کہہ رہی تھی لیکن بعد میں انہوں نے اسے تسلیم کیا لیکن مسلم لیگ (ن) کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے جمہوری عمل میں حصہ لے کر پورے انتخابی عمل کے مشاہدے کے بعد نتائج کو تسلیم کیا ہے۔ جمہوری ذہن رکھنے والوں کا یہی طرز عمل ہو تا ہے ۔اگر انتخابات میں دھاندلی کرنی ہوتی تو پی ٹی آئی 9 نشستیں حاصل کرنے کی بجائے 14 سے 15نشستیں حاصل کرتی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ ہارے اور کچھ جیتے، ہار جیت جمہوری عمل کا حصہ ہوتا ہے اور جمہوری عمل میں حصہ لینے والے گلگت بلتستان کے عوام مبارک باد کے مستحق ہیں ۔ انہوں نے نواز شریف اور ان کی جماعت کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے کوڑا دان میں پھینک دیا ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ پوری اپوزیشن کی صف اول کی قیادت ایک ماہ سے لوگوں کے اعصاب پر سوار تھی اور گلگت بلتستان کی انتخابی مہم چلا رہی تھی لیکن عوام نے ان کے بیانیے کو مسترد کر دیا ہے اور پاکستان تحریک انصاف کو اکثریت دی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں جماعتوں کی قیادت نے ماضی میں گلگت بلتستان میں صحت، تعلیم ، انفراسٹرکچر کی ترقی کے لئے زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں کیا اور یہ نتائج ان کی ناکامی کا مظہر ہیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ میڈیاکا مشکور ہوں جنہوں نے پورے انتخابی عمل کو کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کیا۔ میڈیا کے بعض شعبوں میں بدلتا ہوا بیانیہ بھی دیکھا گیا کہ جس کی مرکز میں حکومت ہوتی ہے اسی کو مینڈیٹ ملتا ہے لیکن اگر ان کی بات کو درست مان لیاجائے تو اس انتخابی عمل اور امیدوار کھڑے کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئے اور دھاندلی کرنا ہوتی تو پاکستان تحریک انصاف کو 14 سے 15 نشستیں ملتیں۔ ہمارے کچھ امیدوار الیکشن نہ ہارتے۔ اپوزیشن کا ہمیشہ یہ وطیرہ رہا ہے کہ جو الیکشن وہ خود جیتے تو الیکشن شفاف ہوتا ہے اور الیکشن وہ ہار جائیں تو وہ شفاف نہیں ہوتا۔ 2018 میں بھی انہوں نے یہی طرز عمل اختیار کیا۔ 2013 کے انتخابات جس میں یہ جیتے تھے یہ اسے شفاف کہہ رہے تھے اور جب ہم نے احتجاج کیا اور چار حلقے کھولنے کی بات کی اور اسمبلیوں میں بھی احتجاج ریکارڈ کروایا تو اس کی شفافیت کھل کر سامنے آ گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس یہ 2018 کے الیکشن پر اعتراض اٹھاتے ہیں اور مولانا فضل الرحمن اس اسمبلی کو جعلی کہتے ہیں لیکن وہ خود اسی پارلیمنٹ کے ذریعے صدر کا الیکشن لڑنے جاتے ہیں اور ان کا بیٹا خود پارلیمنٹ کا رکن بنتا ہے۔ یہ ان کے دوہرے معیار کی عکاسی ہے۔سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ان کا جمہوری ذہن ہوتا تو وہ سیاست کو کاروبار نہ سمجھتے بلکہ عوام کی معاشی بہتری کاسوچتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ نواز شریف اور ان کے کرپٹ وزرا کی ٹیم کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی مستفید ہوئے جن کے یہ کریمینلز سرپرستی کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی استحصال کاواویلہ کرتے ہیں۔ سیاسی استحصال وہ ہوتا ہے جب عمران خان کسی سیاسی عہدے پر بھی نہ ہواور ان پر اپارٹمنٹ خریدنے کے حوالے سے مقدمہ چلایا جائے لیکن عمران خان عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور سرخرو ہو کر نکلے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور ان کے خاندان نے جو اثاثے بنائے اس کا انہیں جواب دینا پڑے گا۔ عوام سمجھتے ہیں کہ ان سے ملک کی دولت کا حساب لیاجائے اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کو مینڈیٹ دیاہے۔ عوام نے ہمیں ووٹ اسی لئے دیا کہ قانون کی حکمرانی ہو اور یہ ہمیں کہتے ہیں کہ تمہیں دیکھ لیں گے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہمارا مطمع نظر صرف قانون کی حکمرانی ہے۔ ہم نے غریب ملک کے حکمرانوں کا طرز عمل اختیار کیا ہے اور ان کی طرح شاہانہ طزر زندگی اختیار نہیں کیا جن کی وجہ سے ملک غریب ہوا۔ مسلم لیگ (ن) کی دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت کی بدعنوانی کے بھی ثبوت ہیں اور انہیں احتساب کے عمل سے گزرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ای ووٹنگ اور سینیٹ کے الیکشن میں شو آف ہینڈز کے علاوہ آئندہ انتخابی عمل کو مزید شفاف بنانے کے لئے قانون سازی کرنے جا رہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے اور دیگر جو بھی انتخابات کے دوران وعدے کئے گئے اسے پورا کریں گے۔ الیکشن مہم کے دوران جی بی کو صوبہ بناتے تو اسے دھاندلی تصور کیاجاتا لیکن یہ صوبہ بننا چاہیے اس کا تاریخی پس منظر ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سب جماعتوں کو ساتھ لے کر اس اعلان کو حقیقت میں تبدیل کرے گی۔