گلگت۔24نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے امور کشمیر وگلگت بلتستان علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات میں عمران خان کی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو دو تہائی اکثریت دلوانے پر پوری گلگت بلتستان کے عوام کے مشکور ہیں۔ منگل کو گورنر سکریٹریٹ گلگت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ سخت موسم کے باوجود یہاں …
گلگت بلتستان کے عوام نے باریاں لینے والوں کو مسترد کر کے عمران خان پر اعتماد کیا، وفاقی وزیر برائے امور کشمیر وگلگت بلتستان علی امین گنڈاپور کی پریس کانفرنس

مزید خبریں
گلگت۔24نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے امور کشمیر وگلگت بلتستان علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات میں عمران خان کی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو دو تہائی اکثریت دلوانے پر پوری گلگت بلتستان کے عوام کے مشکور ہیں۔ منگل کو گورنر سکریٹریٹ گلگت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ سخت موسم کے باوجود یہاں کی عوام نے باہر نکل کر پاکستان تحریک انصاف کو بھاری مینڈیٹ دیا جس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔انہوں نے کہا ہے گلگت بلتستان کی عوام نے باریاں لینے والوں کو مسترد کر کے عمران خان پر اعتماد کیا،اس لیے یہاں کی محرومیاں کا ازالہ کرنا اب پاکستان تحریک انصاف کی اولین ترجیح اور ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ صاف شفاف،غیر جانبدار اور پر امن انتخابات کروانے پر الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماؤں نے آ تے ہی انتخابی مہم کے دوران دھاندلی کے الزامات لگانا شروع کر دیئے ، مگر وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکے۔انہوں نے کہا ہے کہ الیکشن کے ضابطہ اخلاق پر سب سے زیادہ ہم نے عمل کیا اور کئی میگا منصوبوں کی منظوری کے باوجود انتخابی کمپین کے دوران اعلان نہیں کیا۔انہوں نے کہا ہے کہ پر امن احتجاج کرنا ہر ایک کا جمہوری حق ہے مگر توڑ پھوڑ،جلائو گھیراؤ اور قانون کو ہاتھ میں لینے کی ہر گز اجازت نہیں دی جا ہے گی۔انہوں نے کہا ہے کہ گلگت حلقہ دو میں مخالف امیدوار کی درخواست پر پانچ دفعہ گنتی کی گئی پھر بھی اگر کوئی مطمئن نہیں تو وہ الیکشن ٹریبونل جائے،وہاں سے اگر پوسٹل بیلٹ پیپرز کی فرانزک ویری فیکیشن کا کہا جاتا ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا ہے کہ بعض حلقوں میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار بہت ہی کم مارجن سے ہارے اور ہم نے دوبارہ گنتی کے لئے الیکشن کمیشن کو درخواست دی مگر ہماری درخواست رد کر کر دی گئی،اب ہم الیکشن ٹریبونل میں درخواست دیں گے۔انہوں نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے بھر پور غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا،پی پی پی پی اور ن لیگ والے صرف زبانی دعوے کر رہے ہیں ،ثبوت دینے کے لیے کوئی تیار نہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ الیکشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی بھی سب سے پہلے بلاول بھٹو زرداری نے کی اور الیکشن کمیشن کی جانب سے سب سے زیادہ نوٹسز بھی ان کو جاری ہوئے پھر بھی الزامات در الزامات لگانا سمجھ سے بالاتر ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ 2009 اور 2015 میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن نے گلگت بلتستان کے گورنرز کو ہٹا کر اپنے وفاقی وزیروں کو گلگت بلتستان کا گورنر تعینات کیا اور پوری سرکاری مشینری اپنے حق میں استعمال کی،جبکہ ہم نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا۔انہوں نے کہا ہے کہ سیاست میں جوڑ توڑ ہمارا سیاسی حق ہے اور وہ ہم نے استعمال کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ عدالتوں کے احکامات کی اطاعت کی۔پی پی پی اور مسلم لیگ ن کو کو کئی مواقع ملے مگر وہ ملک کی حالت بدلنے میں ناکام رہے،سندھ میں دس بچوں کو کتوں نے کاٹا مگر مگر وہاں ویکسین دستیاب نہیں۔کراچی سمت پورے ملک کی حالت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔








