فیصل آباد۔ 04 دسمبر (اے پی پی):کاشتکاروں کو گندم کی بہترین فصل کے حصول کیلئے پہلی آبپاشی کے ساتھ کمزور زمینوں میں 2 بوری ڈی اے پی یا5بوری سنگل سپر فاسفیٹ فی ایکڑ ڈالنے کی ہدایت کی اور کہا ہے کہ گندم کی فصل میں فاسفورسی کھاد اراضی تجزیہ کی روشنی میں استعمال کرنے سے گندم کے پیداواری اخراجات میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آبادکے …
گندم کی بہترین فصل کیلئے کاشتکاروں کو پہلی آبپاشی کےساتھ کمزور زمینوں میں 2 بوری ڈی اے پی یا5پانچ بوری سنگل سپر فاسفیٹ فی ایکڑ ڈالنے کی ہدایت

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 04 دسمبر (اے پی پی):کاشتکاروں کو گندم کی بہترین فصل کے حصول کیلئے پہلی آبپاشی کے ساتھ کمزور زمینوں میں 2 بوری ڈی اے پی یا5بوری سنگل سپر فاسفیٹ فی ایکڑ ڈالنے کی ہدایت کی اور کہا ہے کہ گندم کی فصل میں فاسفورسی کھاد اراضی تجزیہ کی روشنی میں استعمال کرنے سے گندم کے پیداواری اخراجات میں کمی لائی جاسکتی ہے۔
ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آبادکے ماہرین شعبہ ایگرانومی نے کاشتکاروں سے کہاہے کہ بوائی کے وقت فاسفورسی کھادوں کے استعمال نہ کرنے کی صورت میں پہلی آبپاشی کےساتھ کمزور زمینوں میں دو بوری ڈی اے پی یاپانچ بوری سنگل سپر فاسفیٹ فی ایکڑ، اوسط زرخیز زمین میں ڈیڑھ بوری ڈی اے پی یا چار بوری سنگل سپر فاسفیٹ فی ایکڑ اور زرخیز زمین میں ایک بوری ڈی اے پی یا اڑھائی بوری سنگل سپر فاسفیٹ فی ایکڑ استعمال کریں۔
انہوں نے کہاکہ گندم کی بھرپور پیداوار کے لیے پہلی آبپاشی کے ساتھ ایک بوری یوریا یا پونے دوبوری امونیم نائٹریٹ فی ایکڑ بھی استعمال کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ اگرگندم کی پہلی آبپاشی کے وقت گندم کی فصل میں نائٹروجنی کھاد استعمال نہ کی جائے تو اس سے فی ایکڑ پیداوارمتاثر ہونے کا احتمال بڑھ جاتاہے۔
انہوں نے کہاکہ دور حاضر میں پانی کی ضرورت کے پیش نظر آبپاشی کی جدید زرعی ٹیکنالوجی کے استعمال سے ایک تو پانی کی بچت ہوتی ہے اور دوسری طرف گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔انہوں نے کہاکہ زرعی سائنسدانوں کی دن رات کی کاوشوں اور تجربات کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ گندم کی نشوونما اور بڑھوتری کے لیے بعض اوقات بڑے نازک ہوتے ہیں جہاں پانی کی اشد ضرورت ہوتی ہے اور ان اوقات میں پانی کی کمی پیداوار پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ گندم کی فصل کو پہلے پانی کے ساتھ نائٹروجنی کھاد کے استعمال کی اس وقت ضرورت ہوتی ہے جب پودا جھاڑ بناتا ہے اور فصل کی یہ حالت بروقت کاشت کی گئی فصل میں کاشت سے 18 سے 25 دن بعد شروع ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پہلی آبپاشی کے ساتھ فاسفورسی اور نائٹروجنی کھادوں کے استعمال سے مستقل جڑوں کی نشوونما ٹھیک ہوگی جس کی وجہ سے شگوفے زیادہ بنیں گے اور سٹوں کی تعدادزیادہ ہو جائے گی جس کا پیداوارپر مثبت اثر پڑے گا۔








