لاہور۔یکم فروری(اے پی پی ) گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے ماضی کے حکمرانوں کی کر پشن اور بیڈ گورننس معاشی مسائل کی بنیادی وجہ ہے، کوئی شک نہیں کہ کرپٹ عناصر ملک وقوم کے سب سے بڑے دشمن ہیں، انکو برداشت نہیں کیا جاسکتا، ماضی کی حکومتوں کی کر پشن اور ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں کی وجہ …
گورنر پنجاب کی کیلیفورنیا کمیشن کے ممبر گرجتندر سنگھ رندھاوا سے گفتگو

مزید خبریں
لاہور۔یکم فروری(اے پی پی ) گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے ماضی کے حکمرانوں کی کر پشن اور بیڈ گورننس معاشی مسائل کی بنیادی وجہ ہے، کوئی شک نہیں کہ کرپٹ عناصر ملک وقوم کے سب سے بڑے دشمن ہیں، انکو برداشت نہیں کیا جاسکتا، ماضی کی حکومتوں کی کر پشن اور ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں کی وجہ سے ہماری حکومت کو لڑکھڑاتی ہوئی معیشت ورثے میں ملی ہے، معیشت کے پہیے کو دوبارہ پٹری پر لانے کے لئے بلا شبہ تھوڑا وقت درکار ہے، انشاء اللہ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں عوام کو بہت جلد اس مشکل وقت سے نجات مل جائے گی۔اِن خیالات کا اظہار اُنہوں نے گورنر ہائوس لاہور میں کیلیفورنیا کمیشن کے ممبر گرجتندر سنگھ رندھاوا کی قیادت میں آنے والے وفد سمیت دیگر سے ملاقات میں گفتگو کر تے ہوئے کیا۔گورنر نے کہا کہ بدقسمتی سے ماضی میں جو بھی حکومت آئی اس نے لانگ ٹرم پالیسیاں مرتب کرنے کی بجائے ایڈہاک ازم پر کام کیا۔حکومت درپیش مسائل کے حل کے لئے شارٹ ٹرم پالیسیاں متعارف کروانے یا شارٹ کٹ اختیار کرنے پر یقین نہیں رکھتی۔ شارٹ ٹرم منصوبے وقتی طور پر ریلیف دے کر معیشت کو بربادی کے دلدل کی طرف دھکیل دیتے ہیں اور ماضی میں عوام نے ہمیشہ اسی بدقسمتی کا سامنا کیا ہے۔ تحر یک انصاف کی حکومت نوجوانوں کی سپورٹ سے برسراقتدار آئی ہے اور حکومت ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گی۔ حکومت کے کرتاپور راہداری منصوبے سے دنیا بھر کے سکھوں کی خوشی قابل دید ہے ۔ہم پاکستان میں بسنے والی تمام اقلیتوں کو انکے حقو ق دیں گے۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ تحر یک انصاف کھوکھلے نعروں اور جھوٹے وعدوں پر یقین نہیں رکھتی بلکہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمان عمل کو اپنا نصب العین بنائے ہوئے ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت اختیارات کی مرکزیت کی بجائے اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی پر یقین رکھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بلدیاتی نظام میں تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں۔گورنر نے کہا کہ اب فیصلے صرف لاہور میں نہیں ہونگے بلکہ بلدیاتی نمائندے اپنے اپنے علاقوں کے فیصلے خود کریں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے 22 ملین بچے سکولوں سے باہر ہیں جو مختلف فیکٹریوں، دکانوں اور گھروں میں کام کرتے ہیں ان بچوں کو سکولوں میں لانے کے لئے جامع پالیسی تیار کی جا رہی ہے۔گورنرپنجاب نے کہا کہ حکومت کی کامیاب معاشی پالیسوں نے ٹیکسٹائل سیکٹر میں نئی جان پیدا کر دی ہے اِس شعبے کی ترقی سے برآمدات میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی معاشرہ عدل و انصاف کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا پاکستان کو آگے لے جانا ہے تو ہمیں قانون و انصاف کی عمل داری کو یقینی بنانا ہوگا۔








