گومل زام ہائیڈل پاور سٹیشن کا متاثرہ یونٹ بحال، نیشنل گرڈ سے منسلک کر دیا گیا

واپڈا نے گومل زام ہائیڈل پاور سٹیشن کا متاثرہ یونٹ بحال کر دیا

اسلام آباد۔25جون (اے پی پی):واپڈا نے جنوبی وزیرستان میں واقع گومل زام ہائیڈل پاور سٹیشن کے متاثرہ یونٹ کو بحال کر دیا۔ یونٹ کے محفوظ اور قابل اعتماد آپریشن کو یقینی بنانے کیلئے مطلوبہ ٹیسٹ کامیابی کے ساتھ مکمل کئے گئے جس کے بعد بحال کئے گئے پیداواری یونٹ کو نیشنل گرڈ کے ساتھ منسلک کر دیا گیاہے۔

ترجمان واپڈا کے مطابق متاثرہ یونٹ فعال ہونے کے بعدگومل زام ہائیڈل پاور سٹیشن اپنی مکمل پیداواری صلاحیت یعنی 17.4 میگاواٹ پر بحال ہو گیا ہے جس سے خیبر پختونخوا کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد مستفید ہوں گے۔ قبل ازیں یہ ہائیڈل پاور سٹیشن گزشتہ 8 سال سے اپنی نصف صلاحیت پر بجلی پیدا کر رہا تھا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ گومل زام ہائیڈل پاور سٹیشن میں 8.7 میگاواٹ کے دو پیداواری یونٹس نصب ہیں اور ہر یونٹ کی پیداواری صلاحیت 8.7 میگاواٹ ہے۔ یہ پاور سٹیشن 132 کے وی جنوبی وزیرستان-ٹانک ٹرانسمیشن لائن کے ذریعے نیشنل گرڈ کے ساتھ منسلک ہے اور یہ نیشنل گرڈ کو ہر سال 9 کروڑ 9 لاکھ یونٹ کم لاگت اور ماحول دوست پن بجلی مہیا کر سکتاہے۔ اکتوبر 2016ء میں تکنیکی خرابی کے باعث ریورس پاور پروٹیکش ریلے غیر فعال ہونے پر ہائیڈل پاور سٹیشن کے دونوں یونٹس سے بجلی کی پیداوار بند ہوگئی۔ واپڈا نے اپنی مہارت اور وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے جون 2018ء میں ایک یونٹ کو بحال کرلیا تاہم دوسرے یونٹ کو پہنچنے والے نقصان کی نوعیت کی وجہ سے اسے بحال نہیں کیا جاسکا۔ دوسرے یونٹ کی بحالی کا کام علاقے میں امن و امان کی صورتحال کی وجہ سے کم و بیش 10 سال تک سر انجام نہیں دیا جا سکا۔ بالآخر مذکورہ یونٹ کی بحالی کا کام جو 35 کروڑ 95 لاکھ روپے پر مشتمل تھا، ایک جوائنٹ ونچر کو ایوارڈ کیا گیا۔ بحالی کا یہ کام 5 اپریل 2026ء میں شروع ہوا جسے صرف 80 روز میں 25 جون کو کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا گیا۔گومل زام ہائیڈل پاور سٹیشن، کثیر المقاصد گومل زام ڈیم پراجیکٹ کا اہم حصہ ہے۔ آبپاش زراعت کے لیے پانی کی دستیابی کو یقینی بنانا، سیلاب کی روک تھام اور کم لاگت بجلی کی پیداوار ڈیم کے بنیادی مقاصد ہیں۔ 2013ء میں تکمیل کے بعد سے گومل زام ڈیم اس دور دراز اور پسماندہ علاقے سے غربت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔گومل زام ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی صلاحیت 11 لاکھ 40 ہزار ایکڑ فٹ ہے جس سے ایک لاکھ 91 ہزار 139 ایکڑ اراضی کو سیراب کیا جاتا ہے جبکہ اس منصوبے سے 17.4 میگاواٹ سستی پن بجلی بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

مزید خبریں