گوواِن سائیڈر کی خصوصی رپورٹ میں پاکستان کے ڈیجیٹل اصلاحاتی سفر اور شزہ فاطمہ خواجہ کی قیادت کو عالمی سطح پر سراہا گیا

اسلام آباد۔16دسمبر (اے پی پی):دنیا کے بااثر عالمی اشاعتی ادارے گوواِن سائیڈر (GovInsider) نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں پاکستان کے ڈیجیٹل اصلاحاتی سفر کو اجاگر کرتے ہوئے حکومتی ڈیجیٹل تبدیلی کی قیادت کرنے والی پاکستانی خاتون، وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ کو نمایاں طور پر سراہا ہے۔ گوواِن سائیڈر حکومتی جدت، عوامی شعبے میں ٹیکنالوجی کے استعمال اور اصلاحاتی اقدامات پر توجہ دینے والا ایک معتبر عالمی پلیٹ فارم …

اسلام آباد۔16دسمبر (اے پی پی):دنیا کے بااثر عالمی اشاعتی ادارے گوواِن سائیڈر (GovInsider) نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں پاکستان کے ڈیجیٹل اصلاحاتی سفر کو اجاگر کرتے ہوئے حکومتی ڈیجیٹل تبدیلی کی قیادت کرنے والی پاکستانی خاتون، وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ کو نمایاں طور پر سراہا ہے۔

گوواِن سائیڈر حکومتی جدت، عوامی شعبے میں ٹیکنالوجی کے استعمال اور اصلاحاتی اقدامات پر توجہ دینے والا ایک معتبر عالمی پلیٹ فارم ہے، جو صرف ان پالیسیوں اور منصوبوں کو اجاگر کرتا ہے جن کے زمینی اثرات واضح اور حقیقی پیش رفت کی عکاسی کرتے ہوں۔

ادارے کی جانب سے شزہ فاطمہ خواجہ کا انٹرویو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کے ڈیجیٹل پاکستان وژن کے تحت کی جانے والی اصلاحات عالمی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔

گوواِن سائیڈر کو دیئے گئے انٹرویو میں وفاقی وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے پاکستان کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے ماڈل کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کا ڈیجیٹل اصلاحاتی عمل عملی، حقیقت پسندانہ اور شواہد پر مبنی ہے۔

حکومت کی اختیار کردہ پالیسیاں دیگر ممالک کے تجربات، براہ راست عوام کے ساتھ کام کرنے والے ماہرین سے مشاورت اور وفاقی و صوبائی سطح پر اسٹیک ہولڈرز کی آراء کی بنیاد پر تشکیل دی جاتی ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی ڈیجیٹل پالیسیاں سب سے کمزور اور پسماندہ طبقات کو سامنے رکھ کر بنائی جا رہی ہیں تاکہ اصلاحات خواتین، دیہی آبادی، کم آمدنی والے گھرانوں اور معذور افراد تک موثر انداز میں پہنچ سکیں۔

وفاقی وزیر نے ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پروجیکٹ (ڈیپ) کو پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے تحت ایک قومی ڈیجیٹل ڈھانچہ تیار کیا جا رہا ہے جس میں محفوظ ڈیٹا ایکس چینج، ڈیجیٹل شناخت اور یونیورسل پیمنٹ انٹرفیس شامل ہیں۔ یہ بنیادی نظام عوام کی عمومی خدمات تک رسائی کو وسعت دینے، حکومتی کارکردگی کو بہتر بنانے اور معیشت میں جدت و اختراع کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لئے تشکیل دیئے جا رہے ہیں۔

ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 اور حال ہی میں منظور ہونے والی قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کی بدولت ڈیپ منصوبہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے اور جرأت مندانہ ڈیجیٹل گورننس منصوبوں میں سے ایک بن چکا ہے۔ انٹرویو میں ایک اہم سنگ میل کے طور پر وفاقی حکومت میں ای آفس نظام کے نفاذ کا ذکر بھی کیا گیا جس کے ذریعے وزارتوں اور محکموں کو تیزی سے پیپرلیس نظام پر منتقل کیا گیا۔

محض ایک سال کے اندر وفاقی انتظامیہ ڈیجیٹل ورک فلو پر منتقل ہو چکی ہے جس سے شفافیت میں اضافہ، حقیقی وقت میں نگرانی اور قومی خزانے کے لئے نمایاں مالی بچت ممکن ہوئی ہے۔ یہ اصلاحات وزیراعظم شہباز شریف کے موثر جوابدہ اور پائیدار حکمرانی کے ویژن کو مدنظر رکھ کر عمل میں لائی گئی ہیں۔ گوو اِن سائیڈر سے گفتگو میں وفاقی وزیر نے ملک بھر میں ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی کے فروغ کو بھی ایک مرکزی موضوع کے طور پر اجاگر کیا۔

انہوں نے بتایا کہ دور دراز علاقوں میں فائبر اور فور جی نیٹ ورکس کی توسیع نے خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم کے نتائج میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔ ڈیجیٹل رسائی کے ذریعے دیہی اساتذہ اور طلبہ کو قومی نصاب، آن لائن تعلیمی پلیٹ فارمز اور جامعات تک رسائی حاصل ہوئی ہے جو ماضی میں صرف شہری علاقوں تک محدود تھی۔

انہوں نے اسے ٹیکنالوجی کے سماجی اثرات کی ایک طاقتور مثال قرار دیا۔ مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ نے حکومتی خدمات کو مزید قابل اعتماد اور قابل رسائی بنانے میں مصنوعی ذہانت کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان مختلف زبانوں اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والے شہری انٹر فیس متعارف کرانے پر کام کر رہا ہے جو آواز، میسجنگ پلیٹ فارمز اور کم درجے کے موبائل فونز پر بھی کام کر سکیں گے تاکہ کم خواندگی یا محدود کنیکٹیوٹی رکھنے والے شہری ڈیجیٹل حکومت سے محروم نہ رہیں۔ وفاقی وزیر نے انٹرویو میں مجوزہ سٹیزن سروسز ڈیزائن لیب کا بھی ذکر کیا۔

اس لیب کا مقصد انسانی ضروریات کو مرکز میں رکھتے ہوئے مشترکہ شراکت سے عوامی خدمات کو بہتر بنانا ہے اور پسماندہ طبقات کو براہ راست عوامی خدمات کے ڈیزائن کے عمل میں شامل کرنا ہے تاکہ ایسے حل تخلیق کئے جا سکیں جو ڈیجیٹل دنیا سے آگاہی رکھنے والے صارفین کے ساتھ ساتھ معاشرے کے مشکلات کے شکار طبقوں کے لئے بھی موثر ہوں۔