وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں گوگل کے پہلے دفتر کا قیام ملک میں ٹیکنالوجی کے شعبے کے لئے نئےٹیلنٹ کو مضبوط بنانے اور مقامی ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کو مزید معاونت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا،آئی ٹی برآمدات گزشتہ اڑھائی برس کے دوران مسلسل تقریباً 20 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہیں جو نجی شعبے …
گوگل پاکستان میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں نئے ٹیلنٹ کو مضبوط بنانے اور مقامی ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کو مضبوط کرے گا، شزہ فاطمہ خواجہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔19اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں گوگل کے پہلے دفتر کا قیام ملک میں ٹیکنالوجی کے شعبے کے لئے نئےٹیلنٹ کو مضبوط بنانے اور مقامی ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کو مزید معاونت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا،آئی ٹی برآمدات گزشتہ اڑھائی برس کے دوران مسلسل تقریباً 20 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہیں جو نجی شعبے میں ترقی کی عکاسی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کوپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ گوگل کا دفتر پاکستان کے ٹیک ٹیلنٹ کو فروغ دینے، عالمی ٹیکنالوجی شعبے اور مقامی ٹیکنالوجی ایکو سسٹم دونوں کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ گوگل سمیت دیگر بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی پاکستان میں موجودگی مزید عالمی کمپنیوں کو ملک میں اپنے آپریشنز قائم کرنے کی ترغیب دے گی، بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی پاکستان آمد اور ان کی عملی موجودگی عالمی ٹیک کمپنیوں کے پاکستان کی معیشت اور قیادت پر اعتماد کی عکاس ہے۔
شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گزشتہ دو برس کے دوران ڈیجیٹل تبدیلی کے ایجنڈے کی ذاتی طور پر قیادت کی اور ’’ڈیجیٹل نیشن پاکستان‘‘ اقدام کے ذریعے اس حوالے سے واضح روڈ میپ فراہم کیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران وفاقی حکومت کی ڈیجیٹلائزیشن، ایف بی آر اور ریونیو کے شعبے میں اصلاحات، ڈیجیٹل معیشت، کیش لیس ادائیگیوں اور ڈیجیٹل گورننس میں نمایاں پیشرفت ہوئی ۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات گزشتہ اڑھائی برس کے دوران مسلسل تقریباً 20 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہیں جو نجی شعبے میں ترقی کی عکاسی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی فری لانسنگ معیشت بھی رواں سال ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، ان پیش رفتوں سے عالمی برادری کا پاکستان پر اعتماد بڑھا ہے۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کی صنعت کے لئے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ذاتی قیادت، عزم اور تعاون کو سراہا۔شزہ فاطمہ نے کہا کہ بجٹ میں آئی ٹی صنعت کو خصوصی مراعات دی گئی ہیں جن میں برآمدات کے لئے فائنل ٹیکس رجیم اور برآمدات پر 0.25 فیصد ٹیکس کا نفاذ شامل ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے صنعت کی معاونت کے لئے متعدد دیگر اقدامات بھی کئے گئے ہیں۔انہوں نے حکومت کے یعنی تمام حکومتی اداروں کے مشترکہ تعاون پر مبنی طریقہ کار اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایس آئی ایف سی وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن اور اس کے متعلقہ اداروں کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں پاکستان میں گوگل کا دفتر قائم کرنا ممکن ہوا۔انہوں نے کہا کہ یہ اجتماعی تعاون اور ٹیم ورک کا نتیجہ ہے جس کے باعث آج پاکستان میں گوگل کا دفتر کھولا گیا ہے۔گوگل کے ساتھ حکومتی شراکت داری کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار گوگل سرٹیفیکیشنز مکمل کئے جا چکے ہیں، حکومت اس وقت گوگل کے تعاون سے 3 ہزار سرکاری افسران کے لئے سرٹیفیکیشن پروگرامز پر بھی کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گوگل ڈویلپرز گروپ کے ساتھ مل کر شروع کئے گئے ’’اے آئی سیکھو‘‘ پروگرام میں 17 ہزار سے زائد ٹیموں نے حصہ لیا جن میں خواتین کی شرکت 25 فیصد رہی۔انہوں نے کہا کہ تقریباً 50 ہزار ڈویلپرز کو گیمنگ اور اینیمیشن کے شعبے میں تربیت دی گئی جبکہ ‘‘Think Apps’’ اور ‘‘App Design Master Classes’’ کے ذریعے تقریباً 120 کمپنیوں کو گیمنگ اور ڈیزائن کے شعبوں میں تربیت فراہم کی گئی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ سال پاکستان میں کروم بک کی اسمبلی لائن بھی افتتاح کی گئی تھی، گوگل کروم بکس اب مقامی سطح پر اسمبل کئے جا رہے ہیں اور حکومت مستقبل میں ان کی برآمد کے امکانات بھی تلاش کرے گی۔انہوں نے صحافت اور سائبرسکیورٹی کے شعبوں میں تربیت فراہم کرنے والے اقدامات کو بھی اجاگر کیا۔
شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ ان تمام اقدامات کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ گوگل کے ساتھ شراکت داری پاکستان کے مجموعی ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کو معاونت فراہم کر رہی ہے اور یہ گوگل کے ساتھ حکومت کے باہمی تعاون اور ٹیم ورک کا عملی مظہر ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ جولائی کے آئی ٹی برآمدات کے اعداد و شمار میں سالانہ بنیاد پر 18 فیصد اضافہ ہوا اور اس ماہ پاکستان نے 417 ملین ڈالر کی آئی ٹی برآمدات ریکارڈ کیں۔انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات سے حاصل ہونے والا بلند تجارتی سرپلس پاکستان کی زرمبادلہ کی صورتحال کے لئے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ٹیکنالوجی برآمدات کا تجارتی سرپلس 85 سے 86 فیصد ہے۔ ان کے مطابق اس شعبے میں بھاری مشینری کی درآمد کی ضرورت نہیں ہوتی جس کے باعث برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی کا بڑا حصہ ملک میں ہی رہتا ہے، اسی وجہ سے آئی ٹی برآمدات پاکستان کی معیشت میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت آئندہ آنے والے مہینوں میں ٹیکنالوجی کے شعبے سے متعلق مزید مثبت پیشرفت سے عوام کو آگاہ کرتی رہے گی۔








