لاس اینجلس۔12جنوری (اے پی پی):گوگل کے کوانٹم چیف ہارٹمٹ نیون نے کہا ہے کہ امریکی ریاست کیلیفورنیا میں گوگل کے دفتر کی کوانٹم اے آئی لیب میں موجود دنیا کا طاقتور ترین کمپیوٹر ’’ولو‘‘ مستقبل میں کمپنیوں اور ممالک کی کامیابی اور ناکامی کی پیش گوئی کر سکے گا، ولو طاقت ور کمپیوٹر ہی نہیں بلکہ وہ ٹیکنالوجی ہے جو فنانشل سکیورٹی، بٹ کوئن، حکومتی رازوں، عالمی معیشت اور دیگر …
گوگل کے پاس موجود دنیا کا طاقتور ترین کمپیوٹر ’’ولو‘‘ مستقبل میں کمپنیوں اور ممالک کی کامیابی اور ناکامی کی پیش گوئی کر سکے گا، رپورٹ

مزید خبریں
لاس اینجلس۔12جنوری (اے پی پی):گوگل کے کوانٹم چیف ہارٹمٹ نیون نے کہا ہے کہ امریکی ریاست کیلیفورنیا میں گوگل کے دفتر کی کوانٹم اے آئی لیب میں موجود دنیا کا طاقتور ترین کمپیوٹر ’’ولو‘‘ مستقبل میں کمپنیوں اور ممالک کی کامیابی اور ناکامی کی پیش گوئی کر سکے گا، ولو طاقت ور کمپیوٹر ہی نہیں بلکہ وہ ٹیکنالوجی ہے جو فنانشل سکیورٹی، بٹ کوئن، حکومتی رازوں، عالمی معیشت اور دیگر شعبوں کے لیے اہم ہے۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ولو نے ایسا مسئلہ بھی چند منٹوں میں حل کر لیا جسے دنیا کا بہترین کمپیوٹر حل کرتے ہوئے ہزاروں کھرب سال یعنی کائنات کی عمر سے بھی زیادہ وقت لیتا۔لیب میں اس کمپیوٹر کے لئے سخت ترین سکیورٹی انتظامات کئےگئے ہیں۔
اس اہم ٹیکنالوجی پر برآمدی کنٹرولز اور خفیہ پن لاگو ہوتا ہے اور یہ تجارتی و معاشی برتری کی دوڑ کا مرکز ہے۔کوانٹم کمپیوٹنگ، جو کہ روایتی کمپیوٹر کے مقابلے میں بہت ہی زیادہ تیز ہے، کے پاس اس بات کی کُنجی ہے کہ وہ یہ بتا سکے کہ 21 ویں صدی کے باقی ماندہ عرصے میں کون سی کمپنیاں اور ملک کامیاب ہوں گے اور کون سے ناکامی سے دوچار ہوں گے۔ ’’ولو‘‘ ایک تیل کے ڈرم کے برابر سائز کے گول ڈسکس کا ایک سلسلہ ہے، جو سینکڑوں سیاہ تاروں کے ذریعے جڑا ہوا ہے۔ یہ تاریں ایک کانسی رنگ کے مائع ہیلیم کے باتھ ریفریجریٹر میں اترتی ہیں، جو کوانٹم مائیکروچِپ کو مطلق صفر سے ایک ہزارواں درجے اوپر کے درجہ حرارت پر برقرار رکھتا ہے۔
ہارٹمٹ نیون کا مشن یہ ہے کہ فزکس کے نظریات کو فعال کوانٹم کمپیوٹرز میں تبدیل کیا جائے تاکہ وہ مسائل حل کیے جا سکیں جو عام طور پر ناقابل حل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ولو نے یہ بحث ہمیشہ کے لیے ختم کر دی ہے کہ کیا کوانٹم کمپیوٹرز وہ کام کر سکتے ہیں جو کلاسیکی کمپیوٹرز نہیں کر سکتے۔ولو نے ایسا مسئلہ بھی چند منٹوں میں حل کر لیا جسے دنیا کا بہترین کمپیوٹر جسے حل کرتے ہوئے ہزاروں کھربوں سال یعنی کائنات کی عمر سے بھی زیادہ وقت لیتا ۔یہ نظریاتی نتیجہ حال ہی میں کوانٹم ایکو الگورتھم پر لاگو کیا گیا، جو روایتی کمپیوٹرز کے لیے ناممکن ہے، اس نے مالیکیولز کی ساخت کو سمجھنے میں مدد دی اور اس کے لیے وہی ٹیکنالوجی استعمال کی جو ایم آر آئی مشینوں میں استعمال ہوتی ہے۔
ہارٹمٹ نیون نے کہا کہ یہ کمپیوٹرہمیں ادویات کو زیادہ مؤثر طریقے سے دریافت کرنے ،خوراک کی پیداوار کو زیادہ مؤثر بنانے ، توانائی پیدا کرنے، توانائی کی ترسیل کرنے، توانائی ذخیرہ کرنے ،ماحولیاتی تبدیلی اور انسانی بھوک جیسے مسائل حل کرنے میں مدد دے گا۔ یہ ہمیں فطرت کو بہتر انداز میں سمجھنے کے قابل بنائے گا اور پھر اس کے رازوں کو کھول کر ایسی ٹیکنالوجیز بنانے کی اہلیت دے گا جو ہم سب کے لیے زندگی خوش گوار بنائیں۔کچھ محققین کا ماننا ہے کہ اصل مصنوعی ذہانت صرف کوانٹم کے ذریعے ہی ممکن ہو سکتی ہے۔ایک عام کمپیوٹر کا ڈیٹا صرف دو حالتوں یعنی بٹس میں محفوظ کیا جا تاہے۔
لیکن کوانٹم کمپیوٹنگ کی صلاحیت رکھنے والا کمپیوٹر جو ڈیٹا محفوظ اور پراسس کرتا ہے وہ کئی حالتوں میں رہ سکتا ہے۔ نیشنل کوانٹم ٹیکنالوجی پروگرامز سٹریٹیجی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین، پروفیسر سر پیٹر نائٹ کہتے ہیں کہ’’ ولو‘‘ نے نئی راہیں کھولیں۔وہ کہتے ہیں کہ ’تمام مشینیں ابھی بھی ابتدائی درجے میں ہیں، وہ غلطیاں کرتی ہیں اور انھیں اصلاح کی ضرورت ہے۔ بار بار مرمت کے دوران بہتری آنے سے ولو نے سب سے پہلے یہ ثابت کیا کہ آپ غلطی کی اصلاح کر سکتے ہیں۔یہ خصوصیت ٹیکنالوجی کو اس سمت میں لے آتی ہے کہ وہ کھربوں آپریشنز کو درست طریقے سے انجام دے سکے۔
پہلے سمجھا جاتا تھا کہ ایسا دو دہائیوں میں ہو گا، لیکن اب شاید سات یا آٹھ سال میں ہو جائے۔کوانٹم کمپیوٹنگ شعبہ کے ایک برطانوی ماہر سر پیٹر کا کہنا ہے کہ کوانٹم دنیا ریاستی رازوں سے لے کر بٹ کوائن تک تقریباً ہر چیز کو سمجھنے کی طاقت رکھتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کوانٹم کمپیوٹنگ کے خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام کرپٹو کرنسی کو بھی دوبارہ جانچنا پڑے گا۔








