گھریلو تشدد صرف جسمانی نہیں،ذہنی اذیت، تذلیل اور محرومی بھی ظلم ہے، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ پاکستان نے قرار دیا ہے کہ بیوی کی واضح، باخبر اور غیر مبہم رضامندی کے بغیر خلع دینا قانونی طور پر درست نہیں ، فیملی کورٹس کو گھریلو تنازعات میں فوجداری مقدمات جیسا سخت معیارِ ثبوت لاگو کرنے سے گریز کرنا چاہیے

اسلام آباد۔24مئی (اے پی پی):سپریم کورٹ پاکستان نے قرار دیا ہے کہ بیوی کی واضح، باخبر اور غیر مبہم رضامندی کے بغیر خلع دینا قانونی طور پر درست نہیں ، فیملی کورٹس کو گھریلو تنازعات میں فوجداری مقدمات جیسا سخت معیارِ ثبوت لاگو کرنے سے گریز کرنا چاہیے،گھریلو تشدد کی تعریف صرف جسمانی تشدد تک محدود نہیں بلکہ ذہنی اذیت، جذباتی دباؤ، تذلیل، نظرانداز کرنا اور محرومی بھی ظلم کے زمرے میں آتے ہیں۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے 12 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا جو جسٹس شاہد بلال حسن نے تحریر کیا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر بیوی نے ظلم اور گھریلو تشدد کی بنیاد پر مقدمہ دائر کیا ہو تو اسے زبردستی خلع میں تبدیل کرنا اس کے مالی حقوق کو متاثر کر سکتا ہے اس لیے عدالت بیوی کو اختیار دے کہ وہ ظلم کا دعویٰ جاری رکھنا چاہتی ہے یا خلع قبول کرنا چاہتی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر ظلم ثابت نہ ہو لیکن شادی عملی طور پر ختم ہو چکی ہو اور بیوی مسلسل علیحدگی پر قائم رہے تو بھی اسے انتخاب کا حق دینا ضروری ہے کیونکہ عدالت کسی مردہ رشتے کو زبردستی بحال نہیں کرا سکتی۔ عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ فیملی مقدمات میں ثبوت کا معیار غالب امکان ہوگا جبکہ فوجداری مقدمات میں شک سے بالاتر معیار لاگو ہوتا ہے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ گھریلو معاملات میں ایسے ناممکن شواہد، جیسے عینی شاہد یا ایف آئی آر، کا تقاضا نہ کیا جائے بلکہ حقائق، رویے اور مجموعی حالات کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا جائے۔عدالت کے مطابق زیر سماعت مقدمے میں شادی 19 ستمبر 2016 کو ہوئی جبکہ 8 اکتوبر 2016 کو علیحدگی کا دعویٰ دائر کیا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ قلیل مدت میں بھی ظلم ہو سکتا ہے اور ہر مقدمہ اپنے حقائق کے مطابق دیکھا جائے گا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بیوی ظلم ثابت کرنے میں ناکام رہی اس لیے نچلی عدالتوں کے فیصلے برقرار رہیں گے، تاہم چونکہ شادی ابتدا ہی میں عملی طور پر ختم ہو چکی تھی اور بیوی مسلسل علیحدگی پر قائم رہی اس لیے عدالت نے خلع کا فیصلہ جزوی طور پر کالعدم قرار دیتے ہوئے معاملہ صرف خلع کے طریقہ کار اور مالی حقوق کے تعین کے لیے متعلقہ فیملی کورٹ کو واپس بھیج دیا۔عدالت نے ہدایت کی کہ فیملی کورٹ بیوی کا حتمی بیان ریکارڈ کرکے اس کی آزاد مرضی معلوم کرے، اگر بیوی خلع کا انتخاب کرے تو قانونی تقاضوں کے مطابق فیصلہ کیا جائے جبکہ اگر وہ ظلم کے دعوے پر قائم رہے تو مقدمے کا فیصلہ اسی بنیاد پر ہوگا۔ سپریم کورٹ نے فیملی کورٹ کو 30 روز میں مقدمہ نمٹانے کی ہدایت بھی کی۔

مزید خبریں